ترکی مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی کردار ادا کرسکتا ہے: جان کیری

امریکی وزیر خارجہ کا ترکی اور فلسطین کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری گزشتہ روز ترک حکام سے ملاقات کے بعد مقبوضہ غرب اردن کے فلسطینی شہر رام اللہ پہنچے ہیں جہاں انہوں نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی اور امن مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔ جان کیری اور محمود عباس کی ملاقات کے ابتدائی بیس منٹوں میں ان کے مشیر بھی شریک ہوئے اور بعد میں دونوں رہنماؤں نے علاحدگی میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقات میں امن معاملات کو آگے بڑھانے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو اہم قرار دیا۔ فلسطینی صدر کے مطابق ان قیدیوں میں بےشمار ایسے ہیں جو بغیر کسی الزام کے جیلوں میں بند ہیں۔

محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ کے مطابق رام اللہ میں جان کیری کی محمود عباس کے ساتھ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔ اس ملاقات میں فلسطینی صدر نے اسرائیل کی جیلوں میں مقید 45 سو قیدیوں کی رہائی کو مذاکرات کی بحالی سے پہلے ایک اہم موضوع قرار دیا۔ عباس کے مطابق قیدیوں کی رہائی اس وقت فلسطین کی گلیوں میں ایک اہم موضوع ہے۔

وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد محمود عباس کے ساتھ جان کیری کی تقریباً ایک مہینے میں یہ چوتھی ملاقات ہے۔ محمود عباس نے جان کیری پر نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو بھی مذاکرات کے راستے کی بڑی رکاوٹ قر ار دیا۔ کیری کے ساتھ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے فلسطینی صدر نے کہا کہ یروشلم کے نواحی مقبوضہ علاقے ای ون (E1) میں تعمیر کا سلسلہ فوری طور پر روکنا اشد ضروری ہے۔ محمود عباس نے مذاکرات کی میز پر ایک بار پھر بیٹھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو خاص طور پر یہودی بستیوں میں توسیع سے متعلق منصوبوں کو منجمد کرنا ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ پیر [آج] کے روز فلسطینی وزیر اعظم سلام فیاض کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں۔ جان کیری آج ہی اسرائیل کے صدر شمعون پیریز سے بھی ملیں گے۔ جان کیری کل منگل کے روز اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کرنے کے بعد لندن روانہ ہو جائیں گے۔ لندن میں جان کیری بڑے صنعتی و ترقی یافتہ ملکوں کے گروپ جی ایٹ کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ لندن کانفرنس میں شرکت کے بعد امریکی وزیر خارجہ جنوبی کوریا اور چین کا سفر کریں گے۔

فلسطین آمد سے پہلے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ترک حکام کے ساتھ علاقائی اور عالمی سطح کے متعدد اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ جان کیری کے اس دورے کا ایک اہم مقصد دو ہفتے قبل واشنگٹن کی ثالثی میں شروع کی جانے والی ترک اسرائیل مفاہمت کی کوششوں کو آگے بڑھانا بھی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے استنبول میں اپنے ترک ہم منصب احمد داوُد اُوگلُو سے ملاقات کی جس کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ترکی کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ضمن میں کیری نے انقرہ اور تل ابیب کے مابین تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان حالات کی بہتری سے مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو آگے بڑھانا ممکن ہوگا۔ کیری نے اسرائیل اور ترکی دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مکمل طور پر بحال کریں۔

کیری کا ترکی کا دورہ ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب ابھی دو ہفتے قبل ہی یہودی ریاست اسرائیل کی طرف سے امریکی ثالثی میں 2010ء میں غزہ امدادی سامان لے جانے والے ترکی کے فلوٹیلا پر اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی پر انقرہ سے معذرت کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اکتیس مئی 2010 ء کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں موجود امدادی قافلے کی چھ کشتیوں میں سے سب سے بڑی کشتی ماوی مرمرا پر دھاوا بول دیا تھا اور اس کارروائی میں آٹھ ترک اور ایک ترک نژاد امریکی امدادی کارکن ہلاک ہوا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے ان آٹھ ترک باشندوں کے ورثاء کو زرِ تلافی ادا کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردآون نے اسرائیلی معافی ترک عوام کے نام پر قبول کر لی تھی تاہم انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا انحصار ، بشمول سفیروں کی بحالی کے یہودی ریاست اسرائیل پر ہوگا۔

اسرائیلی اور ترکی کے درمیان اس پیش رفت میں امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے دورہِ اسرائیل کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا۔

جان کیری کی ترک حکام سے بات چیت کا ایک اور اہم موضوع شام کا بحران رہا۔ ترکی جو کبھی شام کا قریبی ساتھی تھا، بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کی مہم میں اب امریکا اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ شام کی خانہ جنگی کے اثرات ترکی پر بھی پڑے ہیں کیونکہ شامی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ترکی کے کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ جان کیری نے انقرہ پر پڑنے والے اس بوجھ کے باوجود اُس پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی سرحدیں شامی پناہ گزینوں کے لیے کھولے رکھے اور امریکا کے ساتھ مل کر شامی اپوزیشن کونسل کی معاونت کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں