قاہرہ اور تہران کے درمیان پروازیں ایک ہفتے کے بعد معطل

مصر کا دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی پروگرام پر نظر ثانی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران اور مصر کے درمیان براہ راست پروازیں ایک ہفتے کے بعد ہی دوبارہ معطل کردی گئی ہیں۔

ایرانی دارالحکومت تہران اور قاہرہ کے درمیان براہ راست پروازیں تیس مارچ کو تینتیس سال کے وقفے کے بعد شروع ہوئی تھیں۔مصر کے وزیر سیاحت ہشام زازو نے اتوار کو پروازیں معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم ایران کے ساتھ اپنے سیا حتی پروگرام کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں''۔

مقامی اخبار میں شائع شدہ ان سے منسوب بیان کے مطابق ایران سے آنے والی پروازوں کو جون کے دوسرے پندرھواڑے تک روکا گیا ہے اور اس عرصہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات پر نظرثانی کی جائے گی۔

ہفتے کے روز قاہرہ کے بین الاقومی ہوائی اڈے سے ائیر میمفس کی پرواز تہران کے لیے ہوئی تھی۔اس چارٹر طیارے میں آٹھ ایرانی مسافر سوار تھے۔ان میں دو سفارت کار بھی شامل تھے۔یہ پرواز تہران سے مصر کے جنوبی شہر اسوان واپس پہنچی تھی۔

اس فضائی کمپنی نے ایران اور مصر کے درمیان ایک نیا روٹ شروع کیا تھا اور اس کے ذریعے ایران سے سیاحوں کو مصر لایا اور وہاں سے واپس لے جایا جانا تھا۔مصر کے حکام نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان شیڈول چارٹر پروازیں بہت جلد شروع کردی جائیں گی مگر اب پروازوں کو معطل کرنے کے فیصلے کے بعد فضائی کمپنی کا پروگرام التوا کا شکار ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور مصر کے درمیان تعلقات میں صدر محمد مرسی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بہتری آئی ہے۔دونوں ممالک نے مارچ کے اوائل میں دوطرفہ سیاحت کے فروغ کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔قبل ازیں فروری میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے مصر کا دورہ کیا تھا اور وہ تیس سال کے بعد قاہرہ پہنچنے والے ایران کے پہلے صدر تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں