قطر، دارفور کی تعمیر نو کے لیے 50 کروڑ ڈالرز دے گا

دوحہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں سوڈانی علاقے کی امداد کے وعدے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطر سوڈان کے خانہ جنگی سے متاثرہ علاقے دارفور کی تعمیر نو کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز کی امداد دے گا۔

قطری کابینہ کے امور کے وزیر احمد بن عبداللہ المحمود نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دارفور کی تعمیر نو کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز کی رقم گرانٹ اور امداد کے طور پر دی جائے گی''۔

قطر نے اس سے پہلے فروری 2010ء میں ایک ارب ڈالرز کی مالیت سے دارفور کی ترقی کے لیے ایک بنک کے قیام کا اعلان کیا تھا۔برطانیہ نے اتوار کو دارفور میں مقامی آبادی کی خوراک کے ضمن میں امداد اور انھیں روزگار کے لیے تربیت دینے کی غرض سے آیندہ تین سال کے دوران ایک کروڑ دس لاکھ پونڈ سالانہ امداد دینے کا وعدہ کیا تھا۔

قطر اور برطانیہ کی جانب سے دارفور کی تعمیر نو کے لیے امداد کے یہ وعدے دوحہ میں منعقدہ دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس میں کیے گئے ہیں۔اس کانفرنس میں ایک عشرے تک جاری رہی خانہ جنگی سے تباہ حال دارفور کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے مختلف حکمت عملیوں اور اقدامات پر غور کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سوڈانی حکومت اور باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد نے جولائی 2011ء میں دارفور میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور اس کے تحت ہی یہ کانفرنس بلائی گئی تھی لیکن سوڈانی فوج سے بدستور لڑنے والے باغی گروپوں نے اس کی مذمت کی ہے۔

کانفرنس میں دارفور میں خوراک کے بحران سے نمٹنے اور اس کے ڈھانچے کی از سرنو تعمیر کے لیے آیندہ چھے سال کے دوران عالمی برادری سے سات ارب بیس کروڑ ڈالرز کی امداد کا تقاضا کیا گیا ہے۔

یادرہے کہ دارفور میں 2003ء سے غیرعرب باغی جنگجوؤں نے سوڈانی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھالیے تھے اور ان کے مختلف گروپوں اور سوڈان کی سرکاری فوج کے درمیان قریباً ایک عشرے تک لڑائی جاری رہی تھی۔اس خانہ جنگی کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور چودہ لاکھ افراد سے زیادہ بے گھر ہوئے تھے۔

باغیوں کے سب سے بڑے دھڑے انصاف اور مساوات تحریک نے مارچ 2011ء میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں صدرعمر حسن البشیر کی حکومت کے ساتھ جنگ بندی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے اور اس کے بعد ان کے درمیان جولائی 2011ء میں حتمی امن معاہد طے پایا تھا۔اب باغیوں کا بڑا دھڑا تو امن معاہدے کے بعد تعمیر نو کے عمل میں شامل ہوچکا ہے۔تاہم باغیوں کے چھوٹے دھڑوں کی سوڈانی فوج کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور ان کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کی اطلاعات منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں