مشرقی افغانستان میں نیٹو کے فضائی حملے میں 11 بچے جاں بحق

جھڑپ کا مقام افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب واقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی اور افغان حکام نے مشرقی افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کے ساتھ ہونے والی ایک شدید لڑائی میں کم از کم 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں گیارہ افغان بچے بھی شامل ہیں۔ ان بچوں کی ہلاکت کی وجہ لڑائی کے دوران کیا جانے والا ایک فضائی حملہ بتایا گیا ہے۔ لڑائی اس علاقے میں ہوئی جو پاکستانی سرحد سے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے داخلے کا ایک اہم مقام خیال کیا جاتا ہے۔

امریکی اور افغان فوجوں کا مشترکہ آپریشن ایک اعلیٰ طالبان کمانڈر کے خلاف جمعہ اور ہفتہ کی درمیان رات شروع کیا گیا تھا اور ہفتے کے روز فائرنگ کے تبادلے میں شدت پیدا ہو گئی تھی۔ لڑائی افغان صوبے کنڑ کے ضلع شیگال کے مقام شُلطان میں شروع ہوئی تھی۔ شُلطان نامی گاؤں کو پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے کے لیے ایک اہم گزرگاہ قرار دیا جاتا ہے اور یہ گاؤں دشوار گزار پہاڑی دروں میں آباد ہے۔ وہاں مقامی کونسل کے سربراہ گُل پاشا نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ہفتے کی صبح ہوتے ہی آسمان پر جنگی طیارے نمودار ہو گئے اور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

گل پاشا کے مطابق طالبان لیڈر اُس مکان میں تھا جس کو نشانہ بنایا گیا اور اسی میں عورتوں اور بچوں کے ہمراہ یہ سینئر طالبان کمانڈر مارا گیا۔ دوسری جانب کنڑ صوبے کی حکومت کے ترجمان واصف اللہ واصفی کے مطابق ہوائی حملے سے ایک مکان میں دس بچوں کے علاوہ ایک عورت بھی ہلاک ہوئی۔ واصفی کے مطابق دیگر پانچ خواتین زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں ایک سے بارہ سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

افغان وزارت دفاع کے مطابق کنڑ صوبے کے شیگال ضلع کے گاؤں شُلطان میں چھ طالبان عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں۔ وزارت دفاع کے مطابق ہلاک شدگان میں طالبان کے دو سینئر کمانڈر بھی شامل ہیں۔ کابل سے جاری کردہ اس بیان میں مرنے والے کمانڈروں کے نام علی خان اور گل رؤف بتائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں عسکریت پسند صوبے کنڑ میں حملوں کی پلاننگ کے ساتھ ساتھ ان پر عمل پیرا ہونے میں بھی شریک ہوتے تھے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے دفتر نے بھی شیگال ضلع میں ہوائی حملے میں گیارہ بچوں کی ہلاکت کا ‌ذکر کیا ہے۔ افغان صدر نے خواتین اور بچوں والے گھر میں چُھپنے اور ان کو حملے میں ڈھال بنانے پر طالبان کی سخت مذمت کی ہے۔ افغان صدر نے ایک گنجان آباد علاقے پر غیر ملکی دستوں کے ہوائی حملے پر بھی تنقید کی ہے۔ رواں برس وسط فروری میں صوبہ کنڑ ہی میں کیے گئے ایک ہوائی حملے میں دس سویلین باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی فوج نے بھی ہوائی حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکی فوجی ذرائع کے مطابق ہوائی حملے کی درخواست بین الاقوامی فوج کی جانب سے کی گئی تھی۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف جاری بارہ سالہ جنگ کے دوران اتوار کے روز ختم ہونے والا ہفتہ خوفناک ترین اور کئی ہلاکتوں سے عبارت قرار دیا گیا ہے۔ ستر سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق کی جا چکی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں