ایران کی نئی جوہری تنصیب میں یورینیم افزودہ کرنے کا آغاز

جوہری توانائی کے قومی دن پر سرکاری ٹی وی سے اہم کامیابیوں کے اعلانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے عالمی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھا ہوا ہے اور اس نے منگل کو یورینیم کی پیداوار کے لیے ایک نئی جوہری تنصیب اور دو کانوں سے خام مواد نکالنے کا آغاز کردیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق وسطی شہر صغند میں خام یورینیم نکالنے کے لیے تین سو پچاس میٹر گہری زیرزمین کانیں کھودی گئی ہیں۔نئی جوہری تنصیب صوبہ یزد میں واقع شہر اردکان میں قائم کی گئی ہے اور یہ مذکورہ دونوں کانوں سے ایک سو کلومیٹر دور واقع ہے۔

ٹی وی کی رپورٹ میں اردکان کی بہت تھوڑی تفصیل بیان کی گئی ہے۔البتہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہاں موجود غیر مصفیٰ یورینیم آکسائیڈ ''ییلو کیک'' کی پیداوار کا تخمینہ ساٹھ ٹن لگایا گیا ہے۔اس کو یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے سینٹری فیوجز میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ایک بیان میں کہا کہ ''ماضی میں ہم ییلو کیک کی فراہمی کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کرتے تھے لیکن اللہ کے فضل سے اب یورینیم کی ایک کے بعد دوسری کان کا افتتاح کردیا گیا ہے''۔

ایران اس وقت نطنز اور فردو کے مقام پر اپنی دوجوہری تنصیبات میں یورینیم کو تین اعشاریہ پانچ اور بیس فی صد تک افزودہ کررہا ہے۔اعلیٰ سطح کی یوریینیم کو جوہری ہتھیار کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔واضح رہے کہ صغند میں یورینیم کی کانوں کی دریافت کا اعلان ایک عشرہ قبل کیا گیا تھا لیکن مغربی ماہرین کے مطابق ان کانوں میں کم تر درجے کی یورینیم کے ذخائرموجود ہیں۔

ایران کی جانب سے نئی جوہری تنصیب پر کام کے آغاز کا اعلان اس کے قومی جوہری توانائی ٹیکنالوجی دن کے موقع پر کیا گیا ہے اور اس سے چند روز قبل ہی ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔ایران کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ قازقستان کے شہر الماتے میں پانچ اور چھے اپریل کو مذاکرات ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size