امریکا کا شامی حزب اختلاف کے لیے امداد بڑھانے پر غور

جی ایٹ وزرائے خارجہ کی شامی اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا شامی حزب اختلاف کی امداد بڑھانے پر غور کررہا ہے جبکہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور جی ایٹ کے دوسرے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ آج شامی باغیوں کے لیڈروں سے ملاقات کررہے ہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ کی میزبانی میں لندن میں منعقدہ جی ایٹ کے وزرائے خارجہ کے دوروزہ اجلاس میں شامی بحران پر غور کیا جائے گا اور توقع ہے کہ اس کے بعد ایک سخت بیان جاری کیا جائے گا،

امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس اجلاس کے موقع پر شامی حزب اختلاف کے نامزد کردہ وزیراعظم غسان ہیتو اور ان کے قومی اتحاد کے دوسرے لیڈروں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

قبل ازیں امریکی انتظامیہ کے ایک سنئیر عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''امریکا شام میں خوف ناک صورت حال کے خاتمے کے لیے ہر روز ہی اقدامات پر غور کررہا ہے اور اس کا مقصد شام میں ایسی حکومت کا قیام ہے جو عوام کی حقیقی نمائندہ ہو''۔

واضح رہے کہ اب تک امریکا خانہ جنگی سے متاثرہ شامی عوام کو امداد دینے والا بڑا ملک ہے اور اس نے اقوام متحدہ کے اداروں اور ڈونر ایجنسیوں کے تحت شامیوں کو انسانی امداد کی مد میں ساڑھے اڑتیس کروڑ ڈالرز کی رقم دی ہے۔اس کے علاوہ وہ شامی باغیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کو ساڑھے گیارہ کروڑ ڈالرز مالیت کے غیر مہلک آلات ،خوراک اور ادویہ مہیا کر رہا ہے۔

تاہم امریکی صدر مختلف حلقوں کی جانب سے درخواستوں کے باوجود شامی حزب اختلاف کو مسلح کرنے کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں اور اورانھوں نے باغیوں کو امریکی اسلحہ دینے کی ہامی نہیں بھری۔ان کا کہنا ہے کہ باغیوں کو دیا جانے والا اسلامی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتا ہے جس سے پورے خطے کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں