.

اسلحہ سمگلنگ سے متعلق یو این رپورٹ پر طرابلس سیخ پا

یو این رپورٹ سیکیورٹی کونسل کے ماہرین کے خدشات پر مبنی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبی حکام نے اپنے ہاں سے ہمسایہ ملکوں کو اسلحہ سمگلنگ سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔

لیبیا کی فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کے سرکاری ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات میں لیبیا سے ہمسایہ ملکوں کو اسلحہ کی سمگلنگ انتہائی مشکل امر ہے۔

یاد رہے کہ سیکیورٹی کونسل میں لیبیا کو اسلحہ فراہمی پر پابندی کی نگرانی کرنے والے ماہرین کی تیارکردہ رپورٹ کی روشنی میں عالمی ادارے نے طرابلس سے ہمسایہ ملکوں میں اسلحہ سمگلنگ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ یو این رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ لیبیا خطے میں اسلحہ کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا ہے جبکہ وہاں قائم ہونے والے نئی حکومت سمگلنگ کے بارے میں بے خبر ہے اور وہ امور مملکت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کوشاں ہے۔

رپورٹ میں الزام عاید کیا گیا کہ لیبیا سے سمگل ہونے والا اسلحہ مالی، شام اور دوسرے ملکوں میں جاری جنگوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ بہ قول رپورٹ بارہ ملکوں سے ٹرک غیر قانونی طور پر لیبیا آتے ہیں، جن میں درمیانے اور بھاری درجے کا اسلحہ لدا ہوتا ہے۔ اس اسلحے میں ائر ڈیفنس سسٹم، چھوٹا اسلحہ اور بارودی سرنگیں شامل ہیں۔

'لیبیا سے سمگل ہونے والا یہ اسلحہ افریقا، بحر متوسطہہ کے مشرقی ممالک میں جاری تنازعات میں کام آتا ہے۔ اس سے ان ملکوں میں اپنی حکومتوں کے خلاف سرگرم غیر قانونی 'نان سٹیٹ' عناصر کو حوصلہ ملتا ہے۔

رپورٹ تیار کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شام ان ملکوں میں سرفہرست ہے جہاں لیبیا سے اسلحہ سمگل ہو۔ لیبیا کے علاقوں مصراتہ اور بنغازی سے اسلحہ ترکی، شمالی لبنان یا پھر مصر کے راستے ہوتا ہوا شام بھیجا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران لیبیا سے مصر کے صحرائے سیناء میں سرگرم مسلح تنظیموں کو بہت زیادہ اسلحہ ارسال کیا گیا ہے۔ اتنی بھاری تعداد میں سیناء میں اسلحے کی آمد بنیادی طور پر مصری سیکیورٹی فورسسز کے لئے بہت بڑا چیلنج ہیں۔