.

تیونس نے سابق صدر سے 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز وصول کر لیے

لبنان کے ایک بنک سے لیلیٰ طرابلسی کے اکاؤنٹ سے رقم کی تیونس منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس نے سابق صدر زین العابدین بن علی اور ان کی اہلیہ کی بیرون ملک بنکوں میں پڑی رقوم میں سے دو کروڑ اٹھاسی لاکھ ڈالرز وصول کر لیے ہیں۔

تیونس کی سرکاری خبررساں ایجنسی ٹی اے پی (تیپ) نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ اقوام متحدہ کے نمائندے علی بن فتیصل مری نے جمعرات کو مذکورہ مالیت کا چیک صدر منصف مرزوقی کے حوالے کیا ہے۔علی بن فتصیل مری قطر کے اٹارنی جنرل ہیں اور انھیں گذشتہ سال ستمبر میں عرب بہاریہ تحریکوں کے دوران اقتدار سے نکال باہر کیے گئے حکمرانوں سے ان کے ممالک کی لوٹی گئی رقوم اور اثاثوں کی وصولی کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

تیپ کی اطلاع کے مطابق تیونس کو لوٹائی گئی رقم لبنان میں سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ لیلیٰ طرابلسی کے بنک اکاؤنٹ میں پڑی تھی۔مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بن علی اور ان کے حواریوں نے تیونس کے قومی خزانے سے اربوں ڈالرز لوٹے تھے اور ان کا بڑا حصہ بیرونی بنکوں میں منتقل کردیا تھا لیکن اب ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

تیونس میں بعد ازانقلاب اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم ہے لیکن اس حکومت کو بے روزگاری کے علاوہ گوناگوں معاشی مسائل کا سامنا ہے اور عوامی انقلابی حلقوں کی جانب سے اس سے بار بار یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ بیرون ملک پڑی ملکی دولت کو واپس لانے کے لیے اقدامات کرے لیکن تیونسی حکومت کو سابق حکمران طبقے کے بنک کھاتوں کا سراغ لگانے اور دوسرے ممالک سے رقوم واپس لانے میں قانونی اور سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔

چوہترسالہ زین العابدین بن علی 14 جنوری 2011ء کو اپنے خلاف ملک گیر عوامی مظاہروں کے بعد سعودی عرب فرار ہوگئے تھے اور تب سے جدہ میں اپنی اہلیہ لیلیٰ طرابلسی کے ساتھ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ تیونس کی ایک عدالت نے گذشتہ سال اس شاہی جوڑے کو ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے اور بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے مختلف مقدمات میں چھیاسٹھ سال قید سنائی تھی۔

ان کے دورصدارت کے آخری دنوں میں صدارتی محل میں ان کے قبضے سے تارِیخی نوادرات برآمد ہوئے تھے۔عدالت نے انھیں اس مقدمے میں ساڑھے پندرہ سال قید اور اٹھہتر ہزار پانچ سو ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی تھی۔سابق صدر اور ان کی اہلیہ کو غیر قانونی طور پر رقوم اور زیورات رکھنے کے جرم میں ایک اور مقدمے میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔بن علی کے خلاف ایک فوجی عدالت میں ریاست کے خلاف سازش اور مظاہرین کے قتل عام کے الزامات میں الگ سے مقدمہ چلایا گیا تھا۔

بن علی اور ان کے خاندان کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انھوں نے دوعشرے سے زیادہ عرصے پر محیط حکومت کے دوران اپنے اثاثوں میں گراں بہا اضافہ کیا تھا۔انھوں نے ہوٹلوں ، بنکوں ،تعمیرات ،اخبارات، ادویہ سازی اور بہت سے دیگر شعبوں اور اداروں کے حصص خرید کرلیے تھے لیکن سابق صدر کے وکلاء نے ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا۔