.

جی ایٹ ممالک کا شامی عوام کے لیے انسانی امداد بڑھانے کا مطالبہ

وزرائے خارجہ کا شامی شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافے پر اظہارافسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جی ایٹ کے وزرائے خارجہ نے شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثرہ شہریوں کے لیے زیادہ انسانی امداد دینے کا مطالبہ کیا ہے اور انھوں نے شام میں شہریوں کی بڑھتی ہوئے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

لندن میں منعقدہ جی ایٹ وزرائے خارجہ کے دوروزہ اجلاس کے بعد جاری کردہ حتمی بیان میں شامی عوام کو انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے امدادی اداروں کی تنازعے کے تمام فریقوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے زیادہ بہتر اور محفوظ رساِئی کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔

دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں شام میں گذشتہ دوسال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ستر ہزار سے زیادہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بحران کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین پڑوسی ممالک میں پناہ گزین ہیں اور بیس لاکھ سے زیادہ اپنے ہی ملک میں دربدر ہیں۔

انھوں نے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی کی شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے امن کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ بیان میں تنازعے کے تمام فریقوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں۔

تاہم وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں صدر بشارالاسد کی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔کانفرنس کے موقع پر شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے قائدین بھی موجود تھے اور انھوں نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سمیت کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات ان کے گوش گزار کیے۔انھوں نے عالمی طاقتوں سے خانہ جنگی سے متاثرہ شامی عوام کے لیے زیادہ انسانی امداد مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی عہدے داروں کے مطابق جان کیری نے شامی حزب اختلاف کے لیڈروں سے اسلحہ مہیا کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا کیونکہ مغربی اقوام اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتی چلی آرہی ہیں کہ شامی باغیوں کو مہیا کیا جانے والا اسلحہ خانہ جنگی کا شکار ملک میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اب تک خانہ جنگی سے متاثرہ شامی عوام کو امداد دینے والا بڑا ملک ہے اور اس نے اقوام متحدہ کے اداروں اور ڈونر ایجنسیوں کے تحت انسانی امداد کی مد میں ساڑھے اڑتیس کروڑ ڈالرز کی رقم دی ہے۔اس نے 28 فروری کو شامی باغیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کو ساڑھے گیارہ کروڑ ڈالرز مالیت کے غیر مہلک آلات ،خوراک اور ادویہ مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدربراک اوباما شامی حزب اختلاف کے مختلف حلقوں کی جانب سے درخواستوں کے باوجود باغی جنگجوؤں کو مسلح کرنے کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ باغیوں کو دیا جانے والا اسلامی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ سکتا ہے جس سے پورے خطے کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔