.

دنیا، شامی حکومت کو اسلحہ کی فروخت بند کر دے: ہیومن رائٹس واچ

بشار نواز فضائیہ کے حملوں میں نو ماہ میں 4300 شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہتے شہریوں کے خلاف لڑاکا طیاروں سے بمباری کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے کیونکہ یہ اقدام انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں آتا ہے۔

'آسمان سے آنے والی موت' کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں 'ہیومن رائٹس واچ' نے کہا ہے کہ بشار الاسد حکومت نے لڑاکا طیاروں کی مدد سے ہسپتالوں، نان بائی کی دکانوں اور دوسرے شہری اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم نے انسانی حقوق کے رضاکاروں کے بیانات کی روشنی میں تیارکردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ فضائی حملوں میں گزشتہ برس جولائی سے لیکر ابتک چار ہزار شامی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج نے اپنے بعض حملوں میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کئے ہیں جن سے متعدد بستیاں ایک ہی حملے میں زمین بوس ہوئیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنے مرکزی دفتر نیویارک سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ شامی حکومت نے اپنے ہی شہریوں کے خلاف سمارٹ بم، بیلسٹک میزائل اور ہاٹ بم استعمال کئے ہیں۔ رپورٹ میں صدر بشار الاسد سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں تشدد کی کارروائیوں کو فی الفور روکیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے تمام حکومتوں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی حکومت کو جنگی ساز و سامان کی فروخت فوری طور پر بند کر دیں تاکہ اسے بشار الاسد کی ناقبت نااندیش حکومت اپنے عوام کے خلاف استعمال نہ کر سکے۔