.

سعودی عرب میں پہلی زیر تربیت خاتون وکیل کی رجسٹریشن

لاء گریجویٹ خواتین کا وکالت کی پریکٹس کرنے کا دیرنیہ مطالبہ منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک زیرتربیت خاتون وکیل کو رجسٹرڈ کرلیا گیا ہے، اس طرح یہاں خواتین وکلاء کی پریکٹس کے لیے ایک راستہ کھل گیا ہے۔

ارویٰ بیت طلال الحجیلی نے بتایا کہ انہیں تاحال وکالت کی پریکٹس کا لائسنس تو نہیں ملا ہے، لیکن انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی وزارت انصاف کی دو فہرستیں ہوتی ہیں، ایک زیر تربیت وکیلوں کی اور دوسری پریکٹس کرنے والے وکلاء کی، اور ان کا نام زیرتربیت وکلاء کی فہرست میں درج کرلیا گیا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رہنما ولید ابوالخیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ارویٰ طلال الحجیلی کی پہلی زیرتربیت وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن کے بعد ایک راستہ کھلا ہے ، امید ہے کہ اب خواتین کو بطور وکیل پریکٹس کی بھی اجازت مل سکے گی۔”

شوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ولید ابوالخیر نے وزارت انصاف کے جاری کردہ ارویٰ طلال کی رجسٹریشن کے سرٹیفیکٹ کی اسکین کی ہوئی نقل بھی پوسٹ کی۔

انہوں نے بتایا کہ زیرتربیت وکیل کی تربیت کا عرصہ تین سال سے زیادہ نہیں ہوتا اور اس کو ایک وکیل کے ساتھ معاہدے کے تحت پانچ سال تک کام کرنا پڑتا ہے۔ زیرتربیت وکیل کو پریکٹس کی اجازت ہوتی ہے۔”

ارویٰ طلال نے کہا کہ زیرتربیت وکیل کا نام جب سرکاری فہرست میں شامل ہوجاتا ہے تو اُسے سعودی عرب کے نظام قانون کی کچھ شرائط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ تمام لاء گریجویٹ کو پریکٹس سے پہلے حسب ضابطہ طریقہ کار پر چلنا ہوتا ہے۔

ارویٰ بنت طلال نے اس کے علاوہ یہ بھی نشاندہی کی کہ جب تربیتی دور ختم ہونے لگتا ہے تو وکیل اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ کوبھی مقدمہ کسی صنفی امتیاز کے بغیر لے سکے، اور مؤکل اگر اس مقدمے لیے موزوں سمجھتا ہے تو اس کا انتخاب کرسکے۔ لاء گریجویٹ خواتین ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ انہیں پریکٹس کی اجازت ملنی چاہئے۔

سعودی عرب کے قانونی نظام کے مطابق بیچلرز ڈگری یافتہ کے لیے تربیت کی مدت تین سال ہے، جو لوگ قانون میں ماسٹر کی ڈگری کے حامل ہیں ان کے لیے تین سال جبکہ پی ایچ ڈی کے حامل افراد تربیت سے مستثنا ہوتے ہیں، اور وہ براہ راست پریکٹس کا لائسنس حاصل کرسکتے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت انصاف نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ اگر کوئی خاتون وکیل تربیت کے لیے درخواست دینا چاہیں گی تو ان کی درخواست پر انہیں دو دن کے اندر ہی اس کا موقع فراہم کردیا جائے گا۔

خواتین کے مقدمات کی حد سے زیادہ تعداد کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا اب ناگزیر ہوگیا ہے کہ خواتین کو وکالت کا حق دیا جائے۔

سعودی وزارت انصاف اُن خواتین وکلاء کو پریکٹس کا لائسنس جاری کردے گی جو وزارت کی داخلہ کمیٹی کے پاس اپنی دستاویزات جمع کرائیں گی۔