.

سابق یمنی صدر کے بیٹے، ایلیٹ ری پبلکن گارڈ کے کمانڈر برخاست

جنرل محسن الاحمر صدارتی مشیر برائے عسکری امور مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے مسلح افواج پر اپنے کنٹرول کو مضبوط بنانے اور ان میں موجود تقسیم کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا ہے اور ایلیٹ ری پبلکن گارڈ کے کمانڈر ،سابق صدر کے بیٹے بریگیڈئیر جنرل احمد علی صالح کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن پر صدر عبد ربہ منصور ہادی کا ایک حکم نامہ پڑھ کر سنایا گیا ہے جس کے مطابق یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی عبداللہ صالح کو فوجی عہدے سے ہٹا کر متحدہ عرب امارات میں ملک کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق صدر نے یمنی فوج کی فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کے کمانڈر جنرل علی محسن الاحمر کو بھی فوجی عہدے سے برخاست کردیا ہے اور انھیں عسکری امور کے لیے صدارتی مشیر مقرر کیا ہے۔

جنرل محسن احمر یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے بیٹے احمد صالح کے مخالف تھے۔انھوں نے یمن میں 2011ء میں سابق صدر کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران حزب اختلاف کی قوتوں کا ساتھ دیا تھا اور وہ حکومت مخالف مظاہرین پر گولی چلانے کے بجائے انھیں تحفظ مہیا کرتے رہے تھے۔

سابق صدر کے خلاف قریباً ایک سال تک جاری رہی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران جنرل محسن الاحمر کی وفادار فورسز اور ری پبلکن گارڈ کے درمیان کئی مرتبہ لڑائی ہوئی تھی اور متحارب فوجی دستے ایک دوسرے پر فائرنگ کرتے رہے تھے۔

صدر منصور ہادی نے علی عبداللہ صالح کے دو بھتیجوں کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ان میں سے ایک کو جرمنی اور دوسرے کو ایتھوپیا میں یمنی سفارت خانے میں فوجی اتاشی مقرر کیا گیا ہے۔یہ دونوں صدارتی گارڈ اور انٹیلی جنس سروس میں تعینات رہے تھے لیکن گذشتہ سال انھیں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

یمنی فوج میں بڑے پیمانے پر ردوبدل اور اس کی تشکیل نو کے لیے صدر عبد ربہ منصور ہادی کا یہ حکم دوسرا بڑے قدم ہے،اس سے پہلے انھوں نے دسمبر میں ایک حکم نامے کے ذریعے مسلح افواج کو چار بڑے یونٹوں میں تقسیم کردیا تھا اور ری پبلکن گارڈ اور فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کو ختم کر دیا تھا۔

اس صدارتی حکم کے منظرعام پر آنے بعد یمن کے دارالحکومت صنعا میں بیسیوں نوجوانوں نے عبد ربہ منصور ہادی کی رہائش گاہ کے باہر ان کے حق میں مظاہرہ کیا۔وہ ان کی حمایت میں نعرے بازی کررہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ''ہادی قدم بڑھاؤ ہم تبدیلی کی منزل پانے تک آپ کے ساتھ ہیں''۔

یمنی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل محمد سرائی شائی کا کہنا ہے کہ ''صدارتی حکم سے فوج میں پائی جانے والی تقسیم کا خاتمہ ہوگا اور تمام مسلح افواج صدر ہادی کے کنٹرول میں آجائیں گی۔یہ ایک ماسٹر اسٹرائیک ہے اور اس سے آرمی میں طاقت کے تمام مراکز کی بیخ کنی ہوگی''۔ایک اور سیاسی تجزیہ کار عبدالباری طاہر کا کہنا ہے کہ ان احکامات نے منصور ہادی کو حقیقی معنوں میں آرمی کا واحد فیصلہ ساز کمانڈر انچیف بنا دیا ہے۔