.

ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار آیندہ صدارتی انتخابات میں امیدوار

سابق صدر علی اکبر رفسنجانی کے اصلاح پسند گروپ کی حمایت حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق جوہری مذاکرات کار حسن روحانی نے آیندہ جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

چونسٹھ سالہ حسن روحانی نے تہران میں جمعرات کو اپنے حامیوں کے ایک اجتماع میں منصب صدارت کے لیے انتخابی دوڑ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔وہ سابق صدور علی اکبر رفسنجانی اور محمد خاتمی کے ادوار حکومت میں ایران کی طاقتور قومی سلامی کونسل کے سربراہ رہ چکے ہیں۔انھوں نے برطانیہ ،فرانس اور جرمنی کے ساتھ 2003ء سے 2005ء کے دوران جوہری مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کی تھی اور انھوں نے ہی یورینیم کو افزودہ کرنے سے متعلق سرگرمیوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔وہ موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کے اگست 2005ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

احمدی نژاد دو مرتبہ ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے دور حکومت میں ایران کی مغربی ممالک اور خاص طور پر امریکا کے ساتھ محاذآرائی میں اضافہ ہوا بے اور امریکا اور یورپی یونین نے ایران پر جوہری سرگرمیاں معطل نہ کرنے کے الزام میں الگ الگ سخت پابندیاں عاید کررکھی ہیں جس کی وجہ سے اس کی معیشت بہت زبوں حال ہوچکی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کی رپورٹ کے مطابق حسن روحانی نے ملک پر عاید پابندیوں کے تناظر میں اجتماع سے خطاب کرتے کہا کہ ''ہمیں ملک کے لیے نئی انتظامیہ درکار ہے جو لڑائی ،عدم تسلسل اور داخلی صلاحیت کو نظرانداز کرکے فیصلے نہ کرے بلکہ وہ اتحاد ، اتفاق رائے اور دیانت دار اور موثر لوگوں کی مدد سے فیصلے کرے''۔

حسن روحانی کے اس اعلان کے وقت سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی تو موجود نہیں تھے البتہ ان کا بیٹا یاسر اور بیٹی فاطمہ اس موقع پر موجود تھے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ انھیں سابق صدر کی مکمل حمایت اور سرپرستی حاصل ہے۔ان کے علاوہ ایران کی ماہرین کی اسمبلی کے رکن محمود علوی بھی اجتماع میں موجود تھے۔

یادرہے کہ جون 2009ء میں ایران میں منعقدہ متنازعہ صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد نے دوبارہ کامیابی حاصل کی تھی لیکن ایرانی حکومت پران انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور فراڈ کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔تب ان کے مقابلے میں تین اصلاح پسند امیدوار تھے۔انتخابی نتائج کے خلاف ایران میں کئی روز تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے تھے اور اصلاح پسندوں کے احتجاج کو سبز تحریک کا نام دیا گیا تھا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا شورائے نگہبان اب اصلاح پسندوں کو آیندہ صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینے کی اجازت دے گی یا نہیں لیکن اگر زیادہ تر صدارتی امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا جاتا ہے تو پھر انتخابی عمل کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوں گے۔

محمود احمدی نژاد کی دوسری مدت صدارت جون میں ختم ہورہی ہے۔ان کا آٹھ سالہ دور حکومت بڑا ہنگامہ خیز رہا ہے۔انھوں نے جوہری پروگرام پر عمل درآمد جاری رکھا ہے لیکن اس کی پاداش میں مغربی ممالک کی جانب سے عاید کردہ سخت پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی معیشت سنگین مسائل سے دوچار ہے اور ملک میں بے روزگاری کی شرح تیس فی صد سے بڑھ چکی ہے جبکہ ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے۔

ایرانی معیشت کا بھٹہ بٹھانے کے علاوہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار صدر محمود احمدی نژاد پر مذہبی اتھارٹی اور سپریم لیڈر پر اثرانداز ہونے کے الزامات بھی عاید کرتے رہے ہیں اور ان کے بارے میں اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی صدارت کے خاتمے کے بعد آیندہ صدارتی انتخابات میں اپنے کسی حمایت یافتہ امیدوار کے ذریعے دوبارہ سیاسی اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ان کے کیمپ کی جانب سے ان کے سابق چیف آف اسٹاف اسفندیار رحیم مشاعی صدارتی امیدوار ہوسکتے ہیں۔تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔