.

حسنی مبارک کا ری ٹرائل کرنے والا جج مقدمے سے الگ

نیا جج مقرر کرنے کے لئے مقدمہ اپیلٹ کورٹ کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرنے والے جج نے کیس سننے سے معذرت کر لی ہے جس کے بعد انہوں نے مقدمہ کسی دوسری عدالت کے سپرد کرنے کی درخواست کی ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والی پہلی سماعت کے موقع پر جج مصطفی حسن عبداللہ نے مقدمے کے آغاز ہی میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ مقدمے کی سماعت قاہرہ کے مضافات میں پولیس اکیڈیمی میں ہو رہی ہے۔ مقدمے کے مرکزی ملزم حسنی مبارک کو بذریعہ ہیلی کاپٹر پولیس اکیڈیمی لایا گیا تھا۔

جج کا کہنا تھا کہ انہوں نے مقدمہ قاہرہ میں اپیلٹ عدالت کو ریفر کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ معاملے کا ری ٹرائیل کرتے ہوئے 'دقت' محسوس کر رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے اعلان کے فورا بعد اکیڈیمی کے باہر اور اندر احتجاج اور تصادم کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

یہ مقدمہ حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاج میں مظاہرین پر فائرنگ کے ذریعے انہیں ہلاک کرانے کے جرم میں بطور شریک ملزم کے طور پر چلایا جا رہا ہے۔ سابق مرد آہن انہی مظاہروں کے بعد اقتدار سے محروم ہوا تھا۔

پیشی کے وقت حسنی مبارک نے بھورے رنگ کا چشمہ پہن رکھا تھا اور انہوں نے کٹہرے سے عدالت میں لوگوں کو ہاتھ ہلا کر دکھایا۔ انہیں قاہرہ کے ہسپتال سے بذریعہ ہیلی کاپٹر پولیس اکیڈیمی میں قائم عدالت میں لایا گیا۔ ان کے دونوں بیٹے اور سابق وزیر داخلہ، جو الگ مقدمات میں زیر حراست ہیں، بھی عدالتی کٹہرے میں موجود تھے۔

العربیہ کی نامہ نگار رندہ ابو العزم نے بتایا کہ کمرہ عدالت کے باہر حسنی مبارک کے حامی ان کی تصاویر پر مشتمل پوسٹر لئے موجود تھے جبکہ اس موقع پر مظاہروں میں جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ملہوکین کے ورثاء حسنی مبارک کے خلاف مذمتی نعرے بلند کرتے ہوئے عدالت سے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔

حسنی مبارک کے دورِ حکومت کے وزیرِ داخلہ حبیب العادلی پر بھی دوبارہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ گذشتہ برس انھیں بھی مظاہرین کو قتل کرنے میں حصہ بننے کے الزام میں عمر قید اور بدعنوانی کے الزامات میں پانچ اور بارہ برس قید کی سزا دی گئی تھی۔ مبارک کے دو بیٹوں جمال اور علاءالدین کو جون میں بری کر دیا گیا تھا جن پر اب دوبارہ مقدمہ چلایا جائے گا۔

اس نئے مقدمے میں اس سے پہلے دی گئی سزا سے زیادہ سخت سزا نہیں سنائی جا سکتی، لیکن عمر قید کی سزا دوبارہ دی جا سکتی ہے یا پھر بری بھی کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہ کہ جب دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم آیا تھا تو مبارک کے وکیلوں نے اس پر کہا تھا کہ مقدمے میں کوئی نئے شواہد نہیں پیش کیے جائیں گے۔

دو ہزار گیارہ کے دوران مظاہرین پر حکومت کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو حسنی مبارک کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر مایوسی ہوئی تھی کہ سابق صدر کو قتل کا حکم صادر کرنے کا قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا۔