.

چین، شمالی کوریا تنازع کے حل میں مدد کرے: جان کیری

امریکی سیکرٹری خارجہ کی اعلی چینی قیادت کے ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خاجہ جان کیری نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اتحادی شمالی کوریا کو لگام ڈالتے ہوئے بڑھتی ہوئی جوہری کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے۔

اس تنازع کے حل کی خاطر چینی مداخلت طلب کرنے کیلئے ہفتے کو چین پہنچنے والے جان کیری نے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔

جان کیری نے چینی صدر ژی جن پنگ کو بتایا کہ میں کہا کہ جزیرہ نما کوریا کی موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے اور ہمیں کچھ چیلنجنگ معاملات حل کرنے ہیں۔

انہوں نے ہمیں بہت سے مسائل درپیش ہیں جن میں جزیرہ نما کوریا کا مسئلہ، ایران اور اس کے جوہری ہتھیاروں کا چیلنج، شام اور مشرق وسطیٰ اور دنیا کی معیشت کے مسائل شامل ہیں جنہیں فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

بیجنگ خطے میں پیانگ یانگ کا اہم اتحادی اور اسے امداد و تجارت فراہم کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا جوہری جنگ کی متعدد دھمکیاں دینے والے شمالی کوریا کے اہم ترین رہنما کم جونگ پر خاصا اثر ورسوخ ہے۔

تاہم ژی جن پنگ نے میٹگ میں ابتدائی کلمات میں جزیرہ نما کوریا کے مسئلے کا تذکرہ کرنے کی جگہ چین اور امریکا کے درمیان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین امریکا تعلقات نئے تاریخی دور سے گزر رہے ہیں اور یہ ایک اچھا آغاز ہے۔

اس سے قبل کیری نے جنوبی کوریا کے صدر پارک جیون ہے سے ملاقات کے بعد چین پہنچنے پر وزیر خارجہ وینگ یی سے ملاقات کی اور شمالی کوریا سے اعتماد سازی کے ان کے منصوبے کیلیے امریکی عوامی حمایت کی پیشکش کی۔

شمالی کوریا کی جانب سے دسمبر میں دور تک مار کرنے والے راکٹ کے کامیاب تجربے اور فروری میں تیسرے جوہری تجربے کے بعد سے تناؤ کا آغاز ہو گیا تھا۔

کیری نے وینگ سے گفتگو میں کہا کہ ہمیں بہت سے چیلنجنگ مسائل درپیش ہیں۔ وینگ نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ دورہ انتہائی اہم موقع پر کیا ہے۔

چین 1952-53 میں کوریا میں ہونے والی کوریا جنگ کے بعد سے شمالی کوریا کی حمایت کر رہا ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان تعلاقات بھی تناؤ کا شکار رہے ہیں جہاں بیجنگ کا ماننا ہے کہ امریکا ایشیا میں طاقت کے عدم توازن کا ذمے دار ہے، وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کیری کے پہلے دورہ چین کو اس حوالے سے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا تھا لیکن کوریا کے مسئلے کے باعث یہ بات پس منظر میں چلی گئی ہے۔

کیری نے جنوبی کوریا کے رہنماؤں سے میٹنگ کے بعد سیئول میں کہا تھا کہ میرا خیال ہے کہ پوری دنیا کے لوگ یہ بات اچھی طریقے سے جانتے ہیں کہ چین سے زیادہ کسی بھی ملک کے شمالی کوریا سے اتنے گہرے مراسم نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کا اتنا اثر ورسوخ ہے۔