.

'فیمن' تحریک کی عریاں خواتین کا المرزوقی کے سامنے احتجاج

منصف المرزوقی اپنی کتاب کی رونمائی کے لئے پیرس میں ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عریاں احتجاج کرنے والی 'فیمن' تحریک سے وابستہ دوشیزائیں کا مقصد سربراہاں مملکت کو تنگ کرنا ہی گیا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو جرمن چانسلر انجینلا میرکل کی معیت میں اپنےعریاں احتجاج کے ذریعے میڈیا کے سامنے شرمندہ کرنے کے بعد تحریک کی رضاکار خواتین نے اپنا اگلا وار تیونس کے صدر منصف المرزوقی پر کیا ہے کہ جو ان دنوں اپنی نئی کتاب کی رونمائی کے سلسلے میں پیرس کے دورے پر ہیں۔

عریاں احتجاج کرنے والی 'فیمن' تحریک کی دوشیزاوں نے منصف المرزوقی کی پیرس میں نیوز کانفرنس کا بائیکاٹ کرانے کی کوشش کی جس کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں دور ہٹا دیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق عریاں خواتین اپنی تنظیم سے وابستہ اس تیونسی لڑکی سے اظہار یکجہتی کرنا چاہتی تھیں کہ جس نے تیونس میں نئی حکومت کے قیام پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی نیم عریاں تصاویر فیس بک پر مشتہر کیں۔

عریاں احتجاج کا پروگرام پیرس کے عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ کے سامنے کیا گیا تھا جہاں فرانس میں مقیم تیونسی کمیونٹی نے پہلے سے ایک احتجاجی پروگرام کی کال دے رکھی تھی۔ مظاہرین نے تیونسی انقلاب کا استعارہ 'گو' دکھا کر المرزوقی کے سامنے احتجاج کیا۔ المنصف المرزوقی اپنی کتاب 'جمہوری ایجاد ۔۔۔ تیونسی تجربے سے سبق' کی رونمائی کے سلسلے میں ان دنوں پیرس آئے ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے عینی شاہدین نے کہا کہ مظاہرین تیونسی صدر کے ایک حالیہ بیان پر احتجاج کی خاطر جمع ہوئے تھے جس میں انہوں نے ملک میں ٹرائیکا رول کے مخالفین کو پھانسیاں دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ نیز اپنے ایک اور بیان میں تیونسی صدر المرزوقی نے خبردار کیا تھا کہ وہ قطر کو برا بھلا کہنے والوں کا کڑا احتساب کرتے ہوئے انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے۔