خلیجی حکام کا ہنگامی اجلاس، ایران کے ممکنہ جوہری خطرے پرغور

بوشہر ری ایکٹر کے نزدیک شدید زلزلے کے بعد خلیجی ممالک کی تشویش میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خلیجی ممالک کے ماہرین ماحولیات اور حکام نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اتوار کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے جس میں ایران کے شہر بوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ کے نزدیک علاقے میں طاقتور زلزلے کے بعد خلیج کو لاحق ممکنہ خطرات پر غور کیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے ایران کے دارالحکومت تہران سے بارہ سو کلومیٹر جنوب میں واقع شہر بوشہر میں جوہری پاور پلانٹ کے نزدیک علاقے میں طاقتور زلزلے کے نتیجے میں سینتیس افراد ہلاک اور ساڑھے آٹھ سو زخمی ہوگئے تھے۔زلزلے سے دو دیہات تباہ اور سیکڑوں مکانات منہدم ہوگئے تھے۔

ماہرین ماحولیات نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج میں پانی کے بہاؤ نے صورت حال کو بہت سنگین بنا دیا ہے۔اس وقت پانی ایران کے ساحلی علاقے سے خلیج کی جانب جارہا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اس پانی میں جوہری فضلہ ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر ماحولیاتی اور بحری تباہ رونما ہوسکتی ہے۔

ان ممکنہ خطرات کے پیش نظر خلیجی ریاستوں کے وزراء نے متحدہ عرب امارات میں ماحول کی نگرانی کے لیے ایک مرکز قائم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔یہ مرکز خلیجی علاقے میں جوہری تابکاری کی پیمائش کرے گا تاکہ ایران کے جوہری پلانٹ سے ہونے والی ممکنہ تباہی سے بچا جاسکے۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے تنظیم کے رکن ممالک کے ماہرین کے اجلاس کا افتتاح کیا۔اس موقع پر انھوں نے ایران پر زوردیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری تحفظ کے بارے میں کنونشن پر دستخط کردے۔اس کنونشن کے تحت اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے کو رکن ممالک کی جوہری تنصیبات زیادہ کڑی نگرانی کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایران کا بوشہر پاور پلانٹ کویت سے دوستتر کلومیٹر ،بحرین سے تین سو کلومیٹر ،عراق کے جنوبی شہر بصرہ سے ساڑھے تین سو کلومیٹر ،قطر کے دارالحکومت دوحہ سے چارسو دس کلومیٹر ،یواے ای کے دارالحکومت ابوظہبی سے چھے سو کلومیٹر اور سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے چھے سو بیس کلومیٹر دور واقع ہے۔

ایران کا یہ جوہری پلانٹ زلزلے سے متاثر ہونے والے علاقے میں واقع ہے اور اس سے یورینیم یا جوہری تابکاری کے اخراج کی صورت میں جی سی سی کے رکن چھے ممالک خطرے سے دوچار ہوں گے۔تاہم ایران بوشہر جوہری پلانٹ سے لاحق کسی بھی ممکنہ خطرے سے متعلق خدشات کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ زلزلے سے جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا اوراس کا اس بات پر اصرار رہا ہے کہ پاور پلانٹ کو بڑے مضبوط طریقے اور تمام حفاظتی تدابیر کو ملحوظ رکھ کر تعمیر کیا گیا ہے۔اس لیے وہ شدید زلزلوں کے مقابلے کی بھی سکت رکھتا ہے۔خلیجی ممالک ،اسرائیل اور امریکا ایران پر یہ الزام عاید کرتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران ان الزامات کی تردید کرچکا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں