تیونس: شکری بلعید کے مشتبہ قاتلوں کے نام اور تصاویر جاری

معلومات فراہم کرنے والوں کو تحفظ دینے اور نام خفیہ رکھنے کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس حکومت نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک سیکولر سیاست شکری بلعید کے قتل میں ملوث پانچ مشتبہ افراد کی تصاویر اور نام مشتہر کرتے ہوئے عوام سے ان کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کی ہے۔

دو برس قتل ایک عوامی جدوجہد کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے حکمرانی کے مزے لوٹنے والے تیونس کے سابق صدر زین العابدین کو اقتدار سے علاحدہ کرنے کے بعد شکری بلعید کا امسال چھے فروری کو قتل شمالی افریقی ریاست میں بدترین بدامنی کا باعث بنا ہے۔

وزارت داخلہ کے جاری کردہ اعلان کے مطابق تمام تیونسی شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 'شہید' شکری بلعید کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم اور اس کے دوسرے ساتھیوں کی گرفتاری میں حکام کی مدد کریں۔

یہ نام وزارت داخلہ نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کر رکھے ہیں، پوسٹ کردہ تصاویر میں ایک ملزم نے سخت گیر اسلام پسندوں کے طرز پر داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ اعلان کے مطابق شکری کے قتل میں ملوث مشتہر افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو نام صیغہ راز میں رکھے جائیں گے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

پولیس کا خیال ہے کہ بلعید کو سلفی مسلک کے پیروکار بنیاد پرستوں نے قتل کیا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم خود بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں۔

تیونس میں برسراقتدار اسلامی اعتدال پسند النہضہ پر شکری بلعید کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے شدید دباو ڈالا جا رہا ہے۔ ابھی تک کسی گروہ نے شکری کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ النہضہ، شکری بلعید کے بھائی اور بیوہ کی جانب سے ان کے قتل میں اپنے ملوث ہونے کے الزامات کی متعدد بار تردید کر چکی ہے۔

بلعید کے قتل کے بعد تیونس میں ہونے والے مظاہرے النہضہ کے وزیر اعظم حمادی جبالی کے استعفی کے بعد ختم ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں