سوڈان کا شورش زدہ دارفور میں امن مشن کو رسائی دینے سے انکار

سوڈانی حکام نے اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے دستوں پر قدغنیں عاید کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈانی حکام نے شورش زدہ مغربی علاقے دارفور میں بین الاقوامی امن دستوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔اس علاقے میں دومتحارب قبائل کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں پچاس ہزار افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔

دارفور کے لیے افریقی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ مشن کی خاتون ترجمان عائشہ البصری نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا مشن ام دخون کے علاقے کی صورت حال بتانے سے قاصر ہے کیونکہ اس کے امن دستوں نے دس اور گیارہ اپریل کو متعدد مرتبہ اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن سوڈانی حکومت کے حکام نے ان کو وہاں جانے سے روک دیا۔

چاڈ کی سرحد کے نزدیک واقع اس علاقے میں دوقبائل مصریہ اور سلامت کے درمیان گذشتہ ہفتے سے جھڑپیں جاری ہیں اور ان میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے نائب ترجمان ایڈورڈو ڈیل بوئے نے نیویارک میں ایک بیان میں کہا تھا کہ صرف گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پچاس ہزار سے زیادہ افراد لڑائی کے بعد سرحد عبور کرکے چاڈ کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے دارفور میں مشترکہ امن مشن کے بارے میں جنوری میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ سوڈانی حکام سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ فورسز کی تعیناتی سے متعلق معاہدے کے تحت امن دستوں کو دارفور میں بلاروک ٹوک کہیں بھی آنے اور جانے کی اجازت دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں