.

الجزائر کے سابق صدر علی کافی 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

آنجہانی نے فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے سابق صدرعلی کافی منگل کے روز 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ الجزائر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق علی کافی کو سوموار کے روز خرابی صحت کے بعد دارلحکومت الجزائر کے فوجی ہسپتال داخل کرایا گیا تھا، جہاں وہ آج خالق حقیقی سے جا ملے۔

علی کافی الجزائر کو فرانسیسی استعمار سے آزادی کی جدوجہد میں پیش پیش رہے۔ فرانسیسی استعمار سے آزادی کے وہ مختلف دارلحکومتوں میں الجزائر کے سفیر رہے۔

الجزائر کے صدر شاذلی بن جدید کے 12 جنوری 1992 کو استعفی اور ملک میں انتخابی عمل پر پابندی کے بعد علی کافی ملک کے مرحوم صدر محمد بوضیاف کی قیادت میں بننے والے صدارتی کونسل کے رکن مقرر کئے گئے۔

سابق صدر محمد بوضیاف کو جون 1992 میں ان ہی کے ایک محافظ نے مشرقی الجزائر کے شہر عنابہ میں قتل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد علی کافی کو 1994ء تک صدارتی کونسل کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔

متنازعہ سوانح حیات

آنجہانی علی کافی نے چند برس قبل اپنی سوانح حیات لکھی جس میں انہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد کی تاریخ بیان کی۔ اس کتاب میں انہوں نے انقلاب الجزائر کے متعدد حساس گوشے وا کئے، ان میں سب سے نمایاں فرانسیسی افسروں کے قصے ہیں۔

اپنی خود نوشت میں علی کافی نے انکشاف کیا کہ فرانسیسی فوج میں شامل بعض افسر اندرون خانہ الجزائری انقلاب سے ملے ہوئے تھے۔ یہ افسر انقلاب کے بعد الجزائر کے اعلی اور حساس عہدوں پر فائز ہوئے۔ آزادی کے بعد ان افسروں کا ملکی سیاست میں اہم دور رہا ہے۔

ان انکشافات نے سیاسی اور ابلاغی محاذ پر طوفان برپا کر دیا تھا جس کے بعد سابق الجزائری وزیر دفاع خالد نزار نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں علی کافی کی تصفیف کی ضبطی دیتے ہوئے ہدایت کی کہ متنازعہ معلومات پر مشتمل صفحات نکال کر کتاب دوبارہ شائع کی جائے۔

علی کافی ایک مختصر عرصے میں الجزائر کے انتقال پا جانے والے تیسرے صدر ہیں۔ ان سے قبل الجزائر کے آزادی کے بعد پہلے صدر بن بلہ اور پھر گزشتہ برس اکتوبر میں الشاذلی بن جدید انتقال کر گئے۔