.

بوسٹن میراتھن میں دھماکے، تین افراد ہلاک

ریس میں 27 ہزار افراد شریک تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی شہر بوسٹن میں ہونے والی میراتھن کے دوران ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز دو آلات ناکارہ بنا دیے گئے ہیں۔

پیر کے روز ہونے والے ان دھماکوں میں کم از کم 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی ریاست بوسٹن میساچوسٹس کے مشہور شہر بوسٹن میں منعقد ہونے والی میراتھن میں یہ دھماکے ریس کے ابتدائی شرکاء کے اختتامی لکیر پار کرنے کے کافی دیر بعد ہوئے۔ ٹیلی وژن فوٹیج کے مطابق ریس کے راستے کے ایک طرف سے سفید دھوئیں نے بلند ہو کر سارے علاقے کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ بوسٹن پولیس نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

مقامی ریڈیو کے مطابق پہلا دھماکا ریس کے راستے کے قریب ہی واقع اسپورٹس کا سامان فروخت کرنے والے اسٹور پر ہوا جبکہ دوسرا اس علاقے میں ہوا جہاں ریس دیکھنے والے شائقین جمع تھے۔ اس کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا کہ دھماکے حادثاتی تھے یا کسی دہشتگردانہ کارروائی کا نتیجہ تھے۔ اس ریس کے لیے بنائے گئے فیس بُک پیج پر منتظمین نے ان دھماکوں کو بم دھماکے قرار دیا ہے۔

بوسٹن پولیس کے کمیشنر ایڈورڈ ڈیوس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان دھماکوں کے حوالے سے کسی قسم کا خطرہ اگر موجود بھی تھا تو وہ اس سے آگاہ نہیں تھے۔ ایڈ ڈیوس کے مطابق کم از کم ایک سو افراد کو علاج معالجے کے لیے ہسپتالوں تک پہنچایا گیا ہے۔ پولیس کمشنر نےتین دھماکوں کا بتایا۔ تیسرا دھماکا جان ایف کینیڈی صدارتی لائبریری اور عجائب گھر کے قریب ہوا۔

بوسٹن میراتھن کو امریکا کا ایک بڑا اسپورٹس ایونٹ قرار دیا جاتا ہے۔ پیر کے روز ہونے والی میراتھن میں 27 ہزار شرکاء حصہ لے رہے تھے۔ بوسٹن شہر میں سرکاری طور چھٹی تھی۔ مقامی پولیس کے سربراہ نے عوام کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی ہے۔ منتظمین کے مطابق پیر کی میراتھن میں کئی ملکوں کے ایتھلیٹس شریک تھے۔ پہلا دھماکا مقامی وقت کے مطابق سہ پہر چار بج کر نو منٹ پر ہوا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دھماکوں کے بارے میں صدر اوباما کو فوری طور پر مطلع کر دیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے دھماکوں کے مقام پر موجود بوسٹن شہر کے میئر ٹام مینینو اور ریاست میساچوسٹس کے گورنر ڈیوال پیٹرک سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے تازہ ترین حالات سے آگاہی بھی حاصل کی۔ بوسٹن کی صورت حال کے بارے امریکی صدر کو داخلی سلامتی کی مشیر لیزا موناکو نے اوول آفس میں بریفنگ بھی دی۔

امریکی خفیہ ادارے کے ایک اعلیٰ اہکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ بوسٹن میراتھن کے راستے سے دو مزید دھماکا خیز آلات تلاش کرنے کے بعد ناکارہ کر دیے گئے ہیں۔ حکام نے ناکارہ بنائی جانے والی ڈیوائسز کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ یہ کس قسم کے دھماکا خیز مواد کی حامل تھیں۔ بوسٹن میں دھماکے کے مقامات پر مقامی پولیس کے علاوہ فیڈرل اداروں کے تفتیشی اہلکار بھی موجود ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق دھماکوں کے مقامات پر بکھزی ہوئی تمام اشیاء کو مشتبہ خیال کرتے ہوئے اکھٹا کیا جا رہا ہے۔

دھماکوں کے فوری بعد خفیہ اداروں نے وائٹ ہاؤس کے باہر کی مرکزی شاہراہ پینسلوینیا ایونیو کو فوری طور پر بند کر دیا اور زرد ٹیپ لگا کر ہر قسم کی ٹریفک معطل کر دی۔ دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ بوسٹن میراتھن کے دھماکوں کو بظاہربم دھماکے محسوس ہوتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی قریبی سڑکوں پر گاڑیوں کے گزرنے کی ممانعت ہے لیکن سیاح اور پیدل چلنے والے افراد کو گزرنے کی اجازت ہے۔