.

بیلجیئم میں شامی اپوزیشن کے حامیوں کے خلاف پولیس کی کارروائیاں

اسلام پسندوں پر شامی صدر کے خلاف لڑائی کے لیے نوجوان بھرتی کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم میں پولیس نے منگل کی صبح شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑائی کے لیے نوجوان رضاکار بھرتی کرنے کے شُبے میں اسلام پسندوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔

بیلجیئم کے پراسیکیوٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برسلز کے نواح میں واقع شہروں آنٹورپ اور ولوورڈے میں چھیالیس چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں اور ایک دہشت گرد گروپ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی تفصیل آج سہ پہر کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں بتائی جائے گی۔

پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شمالی شہر آنٹورپ سے جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،ان میں بیلجیئم کی ایک مشہور اسلامی شخصیت فواد بالقاسم بھی شامل ہیں۔وہ ایک اسلامی گروپ ''شریعت برائے بیلجیئم'' کے ترجمان رہے ہیں۔یہ تنظیم اس یورپی ملک میں شرعی قانون کے نفاذ کی حمایت کرتی رہی ہے لیکن گذشتہ اکتوبر میں اس نے اپنے خاتمے کا اعلان کردیا تھا۔

واضح رہے کہ بیلجیئم ان یورپی ممالک میں سے ایک ہے جہاں سے بڑی تعداد میں مسلم نوجوان شام میں صدر بشارالاسد کی سکیورٹی فورسز کے خلاف لڑنے کے لیے آ رہے ہیں۔ اس سے پہلے بیلجیئم سے 80 نوجوانوں کی شام آنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اور وہ مبینہ طور پراس وقت حزب اختلاف کے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر شامی سکیورٹی فورسز کے خلاف محاذ آراء ہیں۔

بیلجیئن میڈیا کی اطلاع کے مطابق پولیس شام میں زخمی ہونے والے ایک شخص سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اتوار کو شام میں صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف لڑائی کے دوران ایک اڑتیس سالہ فرانسیسی نوجوان رافیل جندرون مارا گیا تھا۔وہ بیلجیئم کے اسلامی حلقوں میں ایک معروف نام تھا۔

رافیل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کئی ماہ پہلے ''شام کے شاہین'' نامی گروپ کے تحت لڑنے کے لیے شام گیا تھا۔اس جنگجو گروپ کی قیادت عبدالرحمان عائشی کررہے ہیں۔وہ شامی نواز راسخ العقیدہ امام باسم عائشی کے بیٹے ہیں اور وہ اتوار کو شام میں لڑائی میں زخمی ہوگئے تھے۔

لندن کے کنگز کالج نے اسی ماہ ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ چودہ یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے چھے سو سے زیادہ اسلامی نوجوان شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں شریک ہیں۔ان ممالک میں آسٹریا، برطانیہ، جرمنی، اسپین اور سویڈن بھی شامل ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے برطانیہ سے شام پہنچنے والے اسلامی جنگجوؤں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اس کے بعد بیلجیئم، آئرلینڈ اور نیدرلینڈز کا نمبر تھا۔