.

دھماکوں کا ذمہ دار کون، پتہ لگا لیں گے: اوباما

واشنگٹن اور نیویارک میں بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ ابھی یہ نہیں جانتی کہ بوسٹن میراتھن میں دھماکوں کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ تاہم انہوں نے ذمہ داروں کو ’کیفر کردار‘ تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

باراک اوباما نے بوسٹن دھماکوں کے بعد وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم سے ایک مختصر نشریاتی بیان جاری کیا، جس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس کی جڑ کا پتہ لگائیں گے۔ ہم پتہ لگا لیں گے کہ یہ کس نے کیا۔ ہم پتہ لگا لیں گے کہ انہوں نے یہ کیوں کیا۔

امریکی شہر بوسٹن میں پیر کو میراتھن ریس کے دوران دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں کے ردِعمل میں اوباما نے مزید کہا کہ ابھی ہمارے پاس تمام سوالوں کے جواب نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ہمیں ابھی تک پتہ نہیں کہ یہ کس نے اور کیوں کیا۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ یہ دھماکے ایک منصوبے کے تحت کیے گئے تاہم انہوں نے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار نہیں دیا۔ اوباما نے زور دیا کہ جلد بازی میں نتائج کا تعین نہ کیا جائے۔ تاہم اے پی کے مطابق بعدازاں وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ اس واقعے کو دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا: ’’(اس کے) ذمہ دار کوئی بھی افراد، کوئی بھی ذمہ دار گروپ، انصاف کی پکڑ محسوس کریں گے۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق باراک اوباما کا یہ بیان بوسٹن دھماکوں کا فوری ردِ عمل ہے۔ قبل ازیں ان پر بعض واقعات پر سست ردِ عمل ظاہر کرنے کے الزامات لگائے جا چکے ہیں۔ ان واقعات میں ان کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران یورپ سے ڈیٹرائٹ جانے والے ایک طیارے کو بم سے اڑانے کی کوشش بھی شامل ہیں۔

بوسٹن کے دھماکوں کے لیے ردِ عمل پر مبنی ان کا نشریاتی خطاب پندرہ منٹ تک جاری رہا۔ قبل ازیں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ میولر اور سیکرٹری برائے داخلی سلامتی جینیٹ نیپولیتانو نے انہیں اس حوالے سے بریفنگ دی۔

امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق اوباما نے دھماکوں کے تین گھنٹے بعد یہ بیان جاری کیا جبکہ وہ قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں اور میساچوسٹس کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

دوسری جانب دھماکوں کے مقام پر نو فلائی زون نافذ کیا جا چکا ہے جبکہ اس کے ردِ عمل میں واشنگٹن اور نیویارک میں بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

بوسٹن کے پولیس کمشنر ایڈورڈ ڈیوس نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کے بارے میں معلومات کے لیے ایک ٹیلی فون لائن مقرر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے بارے میں کسی بھی طرح کی معلومات ایک علیحدہ ٹیلی فون نمبر پر کال کر کے دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اطمینان رکھیں۔