.

بوسٹن میں بم حملہ کرنے والوں کا کوئی مذہب نہیں: شاہ عبداللہ

بم دھماکے میں زخمی دو سعودیوں پر شُبہ نہیں کیا گیا، ایک واقعے کا گواہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے امریکا کے شہر بوسٹن میں میراتھن کے شرکاء پر بم حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی مذہب یا اخلاق اس طرح کے حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔

شاہ عبداللہ نے ایک بیان میں امریکی صدر براک اوباما اور امریکی عوام سے بوسٹن میں دہشت گردی کے دوحملوں میں بے گناہ افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی اطلاع کے مطابق خادم الحرمین الشریفین نے کہا کہ بم دھماکوں کی سازش کرنے والے کسی مذہب یا عقیدے سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ کوئی اخلاقیات یا اقدار اس طرح کی کارروائی کی اجازت دیتی ہیں۔

بوسٹن میں سوموار کو میراتھ دوڑ کے اختتام پر دو بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔امریکا میں گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا اور یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا تھا جب سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعودالفیصل امریکا کے دورے پر تھے۔

انھوں نے منگل کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بوسٹن سعودی شہریوں کا دوسرا گھر ہے اور یہاں سعودی بڑی تعداد میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ زخمی سعودی خاتون نے ایک طالب علم سے شادی کررکھی تھی۔انھوں نے اس خاتون سمیت تمام زخمیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

درایں اثناء امریکی اور سعودی حکام کا کہنا ہے کہ بوسٹن میں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے دو سعودیوں پر واقعے میں ملوث ہونے کا شُبہ نہیں کیا گیا بلکہ ان میں سے ایک واقعے کا گواہ ہے۔ ان میں سے ایک زخمی سعودی نوجوان کو اسپتال میں مسلح پہرے میں رکھا گیا تھا۔

واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے کی اطلاع کے مطابق بوسٹن بم دھماکے میں ایک بیس سالہ نوجوان اور ایک خاتون زخمی ہوگئی تھی۔امریکی پولیس نے پہلے اسپتال میں زخمی نوجوان پر پہرا لگا دیا تھا لیکن اس کو حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔

سعودی سفارت خانے کے ترجمان نیل الجبیر نے بتایا کہ ''امریکی حکام نے بوسٹن میں میراتھن پر حملے میں ملوث ہونے کے ضمن میں کسی سعودی شہری پر شبہ نہیں کیا اور جس سعودی شہری کی بات کی جارہی ہے وہ مشتبہ نہیں بلکہ واقعے کا گواہ ہے''۔

امریکی تفتیش کار ابھی تک بوسٹن میں میراتھن دوڑ کے اختتامی نقطے کے نزدیک دو بم دھماکوں میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ اب تک ملنے والے شواہد کی روشنی میں کسی ٹھوس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ آیا بم دھماکا کسی امریکی نے کیا تھا یا حملہ آور باہر سے کسی دوسرے ملک سے آئے تھے۔امریکی حکام ہر پہلو سے اس واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں۔