.

مراکش نے امریکا کے ساتھ سالانہ فوجی مشقیں منسوخ کردیں

مغربی صحارا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مبصرین کی تعیناتی پر اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش نے امریکا کے ساتھ سالانہ فوجی مشقیں منسوخ کردی ہیں اور اس نے یہ فیصلہ اوباما انتظامیہ کی جانب سے مغربی صحارا کے متنازعہ علاقے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مبصرین کی تعیناتی کے لیے سلامتی کونسل میں مجوزہ قرار داد کے ردعمل میں کیا ہے۔

مراکش اور امریکا کی تیرھویں سالانہ ''افریقن لائن'' فوجی مشقیں آج بدھ سے شروع ہونا تھیں اور ان کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ان میں چودہ سو امریکی اور نو سو مراکشی فوجیوں نے حصہ لینا تھا۔ان کے علاوہ فرانس ،جرمنی وغیرہ سے تعلق رکھنے والے غیرملکی مبصرین نے بھی ان میں شرکت کرنا تھی۔

خطے میں موجود امریکی افریقی کمان کے ترجمان ایرک ایلیٹ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مراکش کی جانب سے مشقوں کی تنسیخ کے بعد اب فوجیوں اور آلات کو ان کی پہلے والی تعیناتی کی جگہوں پر واپس بھیجا جارہا ہے۔ مراکشی حکومت کے ترجمان نے مشقوں کے بارے میں کوئی بیان جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔

واضح رہے کہ مراکش نے اسپین کی سابق نوآبادی مغربی صحارا کو 1976ء میں ضم کر لیا تھا۔اس کے بعد پولیساریو فرنٹ گروپ نے وہاں آزادی کے لیے جنگ شروع کردی تھی جو ایک عشرے تک جاری رہی تھی اور 1991ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں اس علاقے میں جنگ بندی ہوئی تھی۔اس کے بعد سے وہاں فوجی مبصرین تعینات ہیں۔

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک میں قرار داد کا ایک مسودہ تقسیم کیا ہے جس میں متنازعے علاقے مغربی صحارا میں عالمی ادارے کے مبصر مشن میں توسیع کرتے ہوئے اس کو وہاں انسانی حقوق کی نگرانی کی ذمے داری بھی سونپنے کی تجویز پیش کی گئی ہے لیکن مراکش نے اس امریکی تجویز پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مراکشی حکومت کے ترجمان اور وزیر مواصلات مصطفیٰ خلفی نے منگل کو ایک نیوزکانفرنس میں مغربی صحارا میں اقوام متحدہ کے مشن کے مینڈیٹ میں توسیع کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مراکش کی خودمختاری پر ایک حملہ ہے۔اس کے پورے خطے کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر زوردیا کہ وہ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قسم کے اقدام سے گریز کریں۔

معدنی وسائل سے مالا مال اس علاقے کی ملکیت مراکشیوں کے لیے ایک حساس معاملہ ہے۔مراکش نے مغربی صحارا کے لیے ایک وسیع البنیاد خودمختاری کی تجویز پیش کررکھی ہے لیکن پولیساریو باشندے ریفرینڈم کے ذریعے حق خود ارادیت سے کم پر آمادہ نہیں۔اب دونوں فریق اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور ان کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔

مغربی صحارا کے لیے اقوام متحدہ کے مبصر مشن میں اس وقت ایک سو تراسی فوجی مبصرین ،چھبیس فوجی اور چھے پولیس اہلکار شامل ہیں۔آیندہ سال کے لیے اس کے مینڈیٹ کا سلامتی کونسل میں آیندہ ہفتے جائزہ لیا جائے گا۔امریکا مغربی صحارا میں امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کو باہمی اتفاق رائے سے بات چیت کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے اور تمام افراد کے انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔

مراکش نے اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے مینڈیٹ میں توسیع پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مغربی صحارا میں تمام افراد کے انسانی حقوق کا احترام کیا جارہا ہے لیکن لندن میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حریت پسند کارکنوں کو ہراساں کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مغربی صحارا میں آزادی پسندوں پر تشدد اور انھیں جیلوں میں ڈالنے کا بھی الزام عاید کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے گذشتہ ہفتے مغربی صحارا کے بارے میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ وہاں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹس کی غیر جانبدار فریق کی جانب سے نگرانی کی ضرورت ہے۔اس طرح انھوں نے وہاں عالمی ادارے کے مبصر مشن کی تعیناتی کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔