.

سرکردہ ایرانی پارلیمنٹرینز کی العربیہ فارسی ویب سائٹ پر تنقید

صدارتی انتخاب کے موقع پر 'افراتفری' پھیلانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سرکردہ پارلیمنڑین نے العربیہ ٹی وی اور اس کی فارسی ویب سائٹ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فورمز ایران کے متوقع صدارتی انتخاب کے موقع پر ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

'فارس' نیوز ایجنسی نے ایرانی رکن مجلس محمد باقری کے حوالے سے بتایا کہ جن لوگوں کا ملکی امور میں افراتفری پیدا کرنے کا ارادہ ہے وہ چودہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے پہلے بغاوت کا بازار گرم کرنے میں مصروف ہیں۔

محمد باقری کے بہ قول فارسی چینلز کے اجرا کے ذریعے ایران کی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یاد رہے سن 2008ء کو ایران میں ہونے والے 'متنازعہ' صدارتی انتخاب کے موقع پر تہران میں حکام نے العربیہ کی فارسی ویب سائٹ بلاک کر دی تھی، تاہم اس کے باوجود ویب سائٹ دنیا بھر میں فارسی بانوں کے لئے معلومات کا مرکزی ذریعہ رہی۔

ماضی میں ایران کے متعدد ارکان پارلیمنٹ عرب میڈیا پر الزام عاید کرتے چلے آئے ہیں کہ وہ ایران میں عرب دنیا جیسی بہاریہ کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ حکومت کی بساط لپیٹی جا سکے۔

گزشتہ برس نومبر میں ایرانی پارلیمنٹ کے سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نمائندے سید حسین نقوی حسینی نے عرب میڈیا پر "ایران فوبیا" پھیلانے کا الزام عاید کیا تھا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق: "جنہیں اپنے اقتدار سے باہر نکالے جانے کا خطرہ ہے وہ ایران فوبیا پھیلا رہے ہیں۔