.

افغانستان:غزنی میں طالبان کے شب خون میں 13 پولیس اہلکار ہلاک

پانچ طالبان خودکش بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار،بارود برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے جنوب مشرقی صوبہ غزنی میں طالبان مزاحمت کاروں نے مقامی پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر شب خون مار کر تیرہ اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

افغان طالبان نے غزنی کے ضلع اندار میں جمعہ اور جمعرات کی درمیانی شب کلاشنکوف رائفلوں سے چیک پوائنٹ پر حملہ کیا تھا۔اس وقت پولیس اہلکار سورہے تھے اور حملہ آوروں نے انھیں اپنی گولیوں کا نشانہ بنا دیا۔

صوبائی گورنر موسیٰ خان اکبر زادہ نے مقامی پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ایک وفد کو واقعے کی تحقیقات کے لیے ضلع اندار میں بھیج دیا گیا ہے۔

مقتولین اٹھارہ ہزار اہلکاروں پر مشتمل افغانستان کی مقامی پولیس کا حصہ تھے۔دیہات کی سطح پر اس پولیس فورس کی 2010ء میں تشکیل کی گئی تھی اور اس کے اہلکاروں کو ان علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے جہاں بہتر تربیت یافتہ افغان نیشنل پولیس کے اہلکار دستیاب نہیں ہیں۔

افغانستان میں طالبان مزاحمت کار غیر ملکی فوجوں کے علاوہ مقامی سکیورٹی فورسز کو بھی آئے دن اپنے حملوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔بدھ کو شمالی صوبہ جوزجان میں طالبان نے چار افغان فوجیوں کو اغوا کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا اور ان کے سر تن سے جدا کردیے تھے۔

درایں اثناء کابل میں افغان وزارت داخلہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے پانچ طالبان مزاحمت کاروں کو خودکش بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔وہ اسی ماہ کابل اور مشرقی شہر جلال آباد میں خودکش بم حملوں کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

بیان کے مطابق ان افراد میں چار مرد اور ایک عورت ہے اور انھیں جلال آباد سے جمعرات کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان سے چار خودکش جیکٹس ،دھماکا خیز مواد اور ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان صدق صدیقی نے نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ ''ان افراد کو افغانستان سے باہر تربیت دی گئی تھی اور انھوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے''۔ان کے بہ قول یہ پانچوں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے وابستہ تھے۔وہ 27 اور 28 اپریل کو کابل اور جلال آباد میں شہری تنصیبات پر بم حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے لیکن انھیں اس سازش پر عمل درآمد سے قبل ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 28 اپریل کو افغانستان میں 1992ء میں مجاہدین کے ہاتھوں کابل میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کی خوشی میں یوم فتح منایا جاتا ہے اور اس دن ملک میں عام تعطیل ہوتی ہے۔