.

بوسٹن بم دھماکوں کا ایک ملزم پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک

دوسرے مشتبہ ملزم کی تلاش جاری،ایک پولیس افسر بھی مارا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں پولیس نے بوسٹن میں میراتھن کے شرکاء پر بم حملے میں ملوث ایک مشبہ ملزم کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کردیا ہے اور دوسرے ملزم کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے کلوز سرکٹ کیمروں کی مدد سے ان دونوں مشتبہ ملزموں کی نشان دہی کی تھی اور ان میں سے ایک کو ''مشتبہ نمبر ون'' اور دوسرے کو ''مشتبہ نمبر ٹو'' قرار دیا گیا تھا۔پولیس نے جمعہ کو علی الصباح ان کی تلاش کے لیے بوسٹن کے نواحی علاقوں اور قصبوں میں کارروائی کی جس کے دوران مشتبہ نمبر ون مارا گیا ہے۔اس کو متعدد گولیاں ماری گئی تھیں،اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کو مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

بوسٹن کے پولیس کمشنر ایڈ ڈیوس نے نیوزکانفرنس میں اس کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملزموں کی فائرنگ سے ایک پولیس افسر بھی مارا گیا ہے۔ابھی تک ایف بی آئی یا کسی اور امریکی ادارے نے دونوں مشتبہ افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔

پولیس نے بوسٹن کے نوح میں واقع قصبے واٹر ٹاؤن کے مکینوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوسرے مشتبہ ملزم کی گرفتاری کے لیے جاری کارروائی کے دوران اپنے گھروں کے اندر ہی رہیں اور اپنی کھڑکیاں بھی بند رکھیں۔اس دوسرے مشتبہ ملزم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے ہی بوسٹن میں گذشتہ سوموار کو میراتھن کی اختتامی لائن کے نزدیک دونوں بم نصب کیے تھے جن کے پھٹنے سے تین افراد ہلاک اور ایک سو اسی زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس کمشنر ڈیوس کے بہ قول بچ جانے والا مشتبہ ملزم ''مسلح اور خطرناک'' ہے۔ہمیں یقین ہے کہ وہ دہشت گرد ہے اور وہ یہاں لوگوں کو مارنے کے لیے آیا تھا۔انھوں نے صحافیون کو بتایا کہ مشتبہ افراد نے بوسٹن سے دوسری جانب واقع کیمبرج میں اپنے لیے سواری چھیننے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد وہ میسا چیوسٹیس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی چلے گئے جہاں انھوں نے فائرنگ کر کے ایک پولیس افسر کو ہلاک کردیا۔

انھوں نے بتایا کہ ''پھر اس مشتبہ جوڑے نے ایک مرسڈیز کار اغوا کر لی اور اس کے ڈرائیور کو واٹر ٹاؤن کی جانب جانے کے لیے کہا۔اس کے بعد پولیس نے ان کا پیچھا شروع کردیا''۔ اس قصبے میں پولیس اور مشتبہ ملزموں کے درمیان فائرنگ کی آوازیں آتی رہی ہیں اوراس قصبے کے بعض حصوں میں بم دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

ڈیوس کا کہنا تھا کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک مشتبہ ملزم شدید زخمی ہوگیا تھا ،اس گرفتار کر کے اسپتال کیا گیا جہاں پہنچ کروہ دم توڑ گیا۔فائرنگ سے ایک اور پولیس افسر زخمی ہوا ہے۔اس دوران دوسرا مشتبہ ملزم بھاگ جانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔کلوز سرکٹ کیمرے سے لی گئی تصویر میں اس نے بیس بال والی سفید ٹوپی پہن رکھی ہے۔

کیمبرج میں واقع میسا چیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کیمپس میں تین گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا تھا۔اس دوران طلبہ اپنے کمروں میں محصور ہوکررہ گئے۔سڑکوں پر پولیس اہلکار مشتبہ ملزموں کو زندہ پکڑنے یا ہلاک کرنے کے لیے بندوقیں لیے پھر رہے تھے جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے علاقے کی فضائی نگرانی کی جارہی تھی۔