.

حزب اللہ لبنان کی خودمختاری کے لیے سنگین چیلنج ہے:بین کی مون

لبنانی حکومت اپنےعلاقے میں مسلح تنظیموں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے لبنان کی صورت حال کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ شیعہ تنظیم حزب اللہ لبنانی حکومت کے کنٹرول سے ماورا کام کررہی ہے اور اس طرح وہ ریاست کی اپنے علاقے میں خودمختاری اور اتھارٹی کی مکمل صلاحیت کے ساتھ عمل داری کے قیام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔

سیکریٹری جنرل نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2004ء کی قرار داد نمبر 1559 پر عمل درآمد سے متعلق اپنی نیم سالانہ رپورٹ میں کہی ہے۔اس قرارداد میں لبنان سے غیرملکی فوجی قوتوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا تا کہ وہ اپنی خودمختاری کو بروئے کار لاسکے۔

عالمی ادارے کے سربراہ نے لکھا ہے کہ ''لبنانی اور غیر لبنانی ملیشائیں اس ملک میں حکومت کے کنٹرول سے باہر کام کررہی ہیں اور یہ قرارداد نمبر 1559 کی سنگین خلاف ورزی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ لبنان میں متعدد گروپوں کے پاس حکومتی کنٹرول سے آزاد ہتھیارہیں۔ان میں حزب اللہ کا مسلح ونگ سب سے نمایاں ہے اور وہ اس ملک میں سب سے زیادہ ہتھیار رکھنے والی مسلح ملیشیا ہے''۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ''رپورٹنگ کے عرصہ کے دوران معاہدہ طائف اور قرارداد نمبر 1559 کے تحت لبنانی اور غیر لبنانی ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے اور انھیں ختم کرنے کی جانب کوئی قابل ذکر ٹھوس پیش رفت نہیں کی گئی ہے''۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے لبنانی حکومت اور مسلح افواج پر زوردیا کہ وہ ہتھیاروں پر مکمل اجارہ داری کے قیام اور پورے لبنان میں فورس کے استعمال کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔

انھوں نے ''قابل اعتبار'' رپورٹس کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ حزب اللہ اور لبنان کے دوسرے مسلح گروہ شامی بحران میں ملوث ہیں اور اس سے لبنان کی صورت حال میں ایک اور خطرناک عنصر کا اضافہ ہوگیا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے شام کے جنوبی قصبے تل کلخ میں دسمبر 2012ء کے اوائل میں پیش آئَے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں شام میں باغی جنگجوؤں کی حمایت میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے آنے والے متعدد لبنانی نوجوان مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ لبنانی جماعتیں شام میں گذشتہ دو سال سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مسلح تحریک کے بارے میں ردعمل کے حوالے سے منقسم ہیں۔شیعہ ملیشیا حزب اللہ سمیت بعض جماعتیں صدر بشارالاسد کی دامے ،درمے ،سخنے حمایت کررہی ہیں جبکہ اہل سنت کی جماعتیں ان کی مخالف ہیں۔اس بنیاد پر اہل سنت اور اہل تشیع کے مسلح نوجوانوں کے درمیان لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔