.

بشار مخالف شامی اپوزیشن کے لیے امریکی امداد دو گنا

یورپی یونین کی فضائی پابندی مئی میں ختم ہو سکتی ہے: العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شامی اپوزیشن کے لیے اپنی امداد دو گنا کرکے 250 ملین ڈالر کرنے اور باغی جنگجوؤں کے لیے غیر جنگی امداد بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہی گئی۔

استبول میں 'دوستان شام' کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے کیری کے اس بیان میں اس ’غیر مہلک‘ امداد کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اجلاس کے بعد جان کیری نے ایک پریس کانفرس سے خطاب میں کہا کہ شامی بحران ’سرحدوں سے باہر نکل رہا ہے اور اب یہ ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس خون خرابے کو اب رُکنا چاہیے۔

اس موقع پر جان کیری کا مزید کہنا تھا، ’’صدر باراک اوباما نے مجھے ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے کوششیں تیز کی جائیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’آج ہم محتاط انداز سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک نازک لمحے میں ہیں۔‘‘

جان کیری نے بین الاقوامی ڈونرز سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ شامی اپوزیشن کے لیے کُل ایک ارب ڈالرز کی امداد جمع کرنے کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے شام کے اندر موجود بے گھر ہونے والے افراد کے علاوہ اردن میں موجود شامی مہاجرین کو خوراک کی فراہمی کے لیے 25 ملین ڈالرز کی اضافی امداد کا بھی اعلان کیا۔

دوسری طرف شام کی مرکزی اپوزیشن شامی قومی کونسل نے کہا ہے کہ وہ ’دہشت گردی کی تمام صورتوں‘ کو سختی سے رد کرتی ہے۔ مرکزی اپوزیشن کی طرف سے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ اسے ملنے والے ہتھیار غلط ہاتھوں میں نہیں جائیں گے۔

شامی بحران کا حل تلاش کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کی تکمیل کرتے ہوئے ترکی شہر استنبول میں ہفتے کے روز 'دوستان شام' کا اجلاس شروع ہوا، جس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی شریک ہوئے۔

استنبول سے 'العربیہ' کی نمائندہ خصوصی ریما مکتبی نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ ترکی کے یورپ میں واقع حصے میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور شامی اپوزیشن اتحاد کے سربراہ معاذ الخطیب کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کی عمومی کوریج کی اجازت نہیں تھی۔ ملاقات کے بعد صحافی ترکی کے ایشیا میں واقع حصے کو روانہ ہو گئے جہاں دوستان شام کی کانفرنس منعقد ہونا تھی۔

ریما مکتبی نے بتایا کہ امریکا، شام کو تقریبا ایک سو ملین ڈالرز سے زیادہ کی مدد فراہم کر چکا ہے۔ یہ امداد غیر مہلک ہے اور اس کا اسلحہ کے لین دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنے مراسلے میں 'العربیہ' کی نمائندہ خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ بعض یورپی ممالک شامی اپوزیشن کو مسلح کرنے کے لئے اس ہدایت کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں کہ شامی اپوزیشن کی صرف غیر مہلک امداد کی جائے۔ بعض ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ شام پر یورپی یونین کی جانب سے فضائی پابندیوں کا اگلے ماہ مئی میں خاتمہ ممکن ہے۔

بعض عرب ذرائع کے مطابق چند چند یورپی ممالک جن میں برطانیہ اور فرانس سرفہرست ہیں مئی کے بعد شامی اپوزیشن کو اسلحہ فراہمی کی شکل میں امداد فراہم کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ بادی النظر میں امریکا اس اقدام کی مخالفت نہیں کرے گا، تاہم یاد رہے کہ شام میں اسلحہ داخل کرنے کے معاملے پر امریکی نقطہ نظر میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

یاد رہے کہ دوستان شام کے اجلاس میں جو معاملہ سب سے زیادہ زیر بحث آئے گا وہ شامی اپوزیشن کی صفوں میں پایا جانے والا سیاسی بحران ہے۔ نیز کیا غسان ہیٹو شامیوں کو بطور وزیر اعظم قابل قبول ہوں گے یا نہیں؟
بشار الاسد مخالفین کو اسلحہ فراہمی کے مطالبے کے علی الرغم شامی اپوزیشن کے حامی دس عرب، یورپی ممالک بشمومل امریکا نے ابتک اس بات کو ماننے سے انکار کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں یہ اسلحہ انتہا پسندوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

ہفتے کے روز دوستان شام کے اجلاس میں گیارہ عرب اور مغربی ملکوں کے وزرائے خارجہ اور شام کے حکومت مخالف نیشنل الائنس کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

شامی اپوزیشن کو اسلحہ فراہم کرنے کے مطالبے کی فرانس اور برطانیہ جیسے مغربی ملک حمایت کرتے ہیں جبکہ جرمنی اور امریکا جیسے بعض ملکوں کو اس تجویز کے بارے میں تحفظات ہیں۔