.

شامی سفارتخانہ اپوزیشن کے حوالے نہیں کیا جا رہا: تیونس

"معاملے کے قانونی اور سفارتی پہلووں کا جائزہ لیا جا رہا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس اپنے ملک میں شامی سفارتخانے کو انقلابی جماعتوں پر مشتمل اتحاد اور شامی اپوزیشن کے حوالے کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا ہے۔ اس امر کا اعلان تیونس وزارت خارجہ نے ایک سرکاری بیان میں کیا ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تیونس اصولی طور پر شامی انقلاب اور وہاں کے عوام کی امنگوں کی حمایت پر مبنی ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ تیونس بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا بھی خود کو پابند خیال کرتا ہے کہ جن کی روشنی میں اہم سفارتی معاملے طے کئے جاتے ہیں۔

بیان کے اختتام میں تیونسی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ تیونس میں شامی سفارتخانے کی عمارت کو اس وقت اپوزیشن اتحاد کے حوالے کرنا خارج از امکان ہے کیونکہ فی الوقت بین الاقوامی معاہدوں، سفارتی اور قانونی امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ جو عمارت کی اپوزیشن گروپ حوالگی کے ضمن میں طے کیا جانا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ تیونس میں شائع ہونے والے متعدد اخبارات میں گزشتہ چند دنوں سے ایسی خبریں تواتر سے شائع ہو رہی ہیں کہ دوحہ میں عرب لیگ کے اجلاس کے فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے تیونس میں شامی سفارتخانہ اپوزیشن فورسسز کے حوالے کیا جانے کا امکان ہے۔