.

شیخ الازہر محمد الطیب کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

اخوان اور جامعہ الازہر کے درمیان تناو کی کیفیت جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی قدیم درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز سے ہفتے کے روز دارلحکومت ریاض میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات مصر کی حکمران جماعت اخوان المسلمون اور ملک کی سرکردہ مذہبی اتھارٹی کے درمیان شدید تناو کے تناظر میں ہوئی ہے۔

سعودی دفتر خارجہ کے مطابق ولی عہد شہزادہ سلمان نے کہا کہ جامعہ الازہر عرب اور اسلامی دنیا کے لئے اہم ہے۔ اسے اسلامی علوم کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

جامعہ الازہر اور اخوان المسلمون کے درمیان تناو الازہر یونیورسٹی کے پرنسپل اسامہ العبد کی اپریل میں ان کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد شروع ہوا۔ اسامہ العبد کو یونیورسٹی سٹی کے ہاسٹلز میں تقریبا پانچ سو طلبہ کے زہر خورانی سے متاثر ہونے کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے تناظر میں ان کے عہدے سے ہٹایا گیا۔

مصری اپوزیشن کے بعض حلقے الزام عاید کرتے ہیں کہ اخوان المسلمون نے اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کی زہر خورانی کا اسکینڈل کھڑا کیا تاکہ اس کے جلو میں مصر کے اہم ادارے پر کنڑول مضبوط کیا جا سکے۔ العبد کی برخاستگی کے بعد اخوان المسلمون کی جانب سے مفتی اعظم احمد الطیب کی برطرفی کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

'العربیہ' کے ساتھ انٹرویو میں جامعہ الازہر کے عالم دین شیخ احمد کریمہ نے اخوان المسلمون پر زہر خورانی کے معاملے کو اپنے مفادات کے حصول کی خاطر استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔ کریمہ کے بہ قول معاملے کا تعلق زہر خورانی سے طلبہ کے معدوں کی خرابی نہیں بلکہ ان کے ذہنوں کو زہر آلودہ کرنا مقصود تھا۔

جامعہ الازہر نے مصری صدر محمد مرسی کی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کی جانب سے ملک میں پہلی بار 'سکوک' کے نام سے اسلامی بانڈز کے اجرا پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا تاکہ ملکی معشیت کو سہارا دیا جا سکے۔

اس اہم ادارے کا مطالبہ ہے کہ ملک کے پیش آئند دستور میں اسلامی قانون کے معاملے پر ادارے کے سینئر اسکالرز کی اتھارٹی سے مشورہ کیا جانا چاہیئے۔