.

امریکا کا ترک وزیراعظم ایردوآن کو غزہ نہ جانے کا مشورہ

ترکی اور اسرائیل کے درمیان مکمل تعلقات کی بحالی کے لیے امریکی کوششیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکا نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کو غزہ کی پٹی کا طے شدہ دورہ موخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

ترک وزیراعظم ایک عرصے سے اسرائیلی محاصرے کا شکار فلسطینی علاقے کے دورے پر جانے کے ارادے کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انھوں نے گذشتہ ہفتے ہی امریکا کے سرکاری دورے کے بعد مئی کے آخر میں غزہ جانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب انھیں اسرائیل کے پشتی بان امریکا کے وزیرخارجہ جان کیری نے اس مشورے سے نوازا ہے کہ ان کے لیے فلسطینی علاقے میں نہ جانا بہتر ہوگا کیونکہ ان کے دورے سے تعطل کا شکار مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جان کیری نے اتوار کو استنبول میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے خیال میں دورے کا وقت امن عمل کی بحالی کے لیے کوششوں کے حوالے سے بہت نازک ہے کیونکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دونوں فریق کم سے کم بیرونی مداخلت سے اپنی بات چیت کا دوبارہ آغاز کریں۔

ترک وزیراعظم نے غزہ جانے کا ایسے وقت میں اعلان کیا تھا جب امریکا اسرائیل اور ترکی کے درمیان دوطرفہ سفارتی اور سیاسی تعلقات کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔اسرائیل نے 2010ء میں ترکی کے غزہ کی پٹی کی جانب جانے والے بحری امدادی قافلے پر حملے میں نوترک رضاکاروں کی شہادت پر مارچ میں معافی مانگ لی تھی۔اب امریکا یہ چاہتا ہے کہ اس کی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے کوششوں کو کسی فریق کی جانب سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔

جان کیری نے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو کے ساتھ ترکی اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے طویل اور تعمیری تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ احمد داؤد اوغلو اور رجب طیب ایردوآن اس ضمن میں اپنے تمام وعدوں اور ذمے داریوں کو پورا کریں گے''۔

واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ ماہ اسرائیل کے دورے کے موقع پر صہیونی اور ترک وزیراعظم کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو کرائی تھی اور دونوں ممالک پر زوردیا تھا کہ وہ اپنے سفارتی تعلقات کو ازسرنو بحال کریں۔ان کے ایماء پر ہی بنجمن نیتن یاہو نے ترکی سے نو ترک رضاکاروں کی ہلاکتوں کے واقعہ پر معافی مانگی تھی۔تاہم دونوں ممالک کے درمیان تب سے سفارتی وسیاسی تعلقات کی بحالی کے ضمن میں اقدامات کی رفتار سست رہی ہے اور یہ بھی قیاس آرائی کی گئی تھی ترکی شاید اپنے وعدوں سے پھر رہا ہے۔تاہم ترک قیادت نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ہفتے ترک اور اسرائیلی سفارت کاروں کے درمیان ملاقات متوقع ہے جس میں فریڈم فلوٹیلا کے شہداء کو اسرائیل کی جانب سے خون بہا دینے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔اس کے بعد ہی دونوں سابق اتحادیوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات بحال ہوں گے اور وہ اپنے اپنے سفیروں کو واپس دونوں دارالحکومتوں میں بھیج دیں گے۔رجب طیب ایردوآن 16مئی کو وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے اور امریکی حکام اس سے قبل یہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات کی بحالی کے لیے قابل ذکر پیش رفت ہوجائے اور وہ صدر اوباما کو ایک اچھی رپورٹ پیش کرسکیں۔