.

یمن میں امریکی ڈرون حملہ،القاعدہ کے دو جنگجو ہلاک

جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں دو یمنی فوجی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے بغیر پائلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے اور جھڑپوں میں القاعدہ کے تین مشتبہ جنگجو ہلاک اور دو فوجی مارے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی ڈرون نے مشرقی صوبے مآرب کے علاقے وادی عبیدہ میں ایک مکان کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے اورحملے میں دو مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

ایک یمنی ذریعے اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے مکان پر میزائل داغنے سے قبل علاقے میں پرواز کی تھی۔ڈرون حملے کے نتیجے میں وہاں چھپائے گئے اسلحہ اور گولہ بارود کو آگ لگ گئی اور زور دار دھماکا ہوا۔فوری طور پر حملے میں مارے گئے القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں کی شناخت نہیں ہوسکی۔

ایک قبائلی ذریعے نے بتایا ہے کہ اس حملے کے بعد سرکاری فوج اور القاعدہ کے مشتبہ ارکان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور ان میں دویمنی فوجی اور ایک جنگجو مارا گیا۔

واضح رہے کہ امریکا نے 2012 ء میں ڈرون حملے تیز کردیے تھے اور گذشتہ سال کے دوران امریکی جاسوس طیاروں نے القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں اور ان کے حامیوں کے ٹھکانوں پر تریپن ڈرون حملے کیے تھے۔اس سے پیشتر 2011ء میں صرف اٹھارہ حملے کیے گئے تھے۔

تاہم یمن نے سرکاری طور پر آج تک یہ بات تسلیم نہیں کی کہ امریکا کے ڈرون طیارے القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر حملے کررہے ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے چند ماہ قبل اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکا کا مرکزی خفیہ ادارہ سی آئی اے اوباما انتظامیہ سے یمن میں مزید فضائی حملوں کی اجازت طلب کر رہا ہے اور وہ شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کے باوجود ڈرون طیاروں سے القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر غور کررہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ اگر صدر براک اوباما کی انتظامیہ سی آئی اے کو حملوں کی اجازت دے دیتی ہے تو یمن میں امریکا کی نئی فوجی سرگرمی سیاسی طور پر بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔یمن میں سی آئی اے نے القاعدہ کے ٹھکانوں پر اپنے جاسوس طیاروں کے ذریعے حملوں کی کبھی ذمے داری قبول نہیں کی جبکہ امریکا یمن میں القاعد کی شاخ کو سب سے زیادہ متحرک اور خطرناک خیال کرتا ہے۔