افغانستان:ترکی کے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے طالبان سے مذاکرات

ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد طالبان نے 8 ترکوں کو اغوا کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر میں ایک ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد طالبان مزاحمت کاروں نے اس میں سوار آٹھ ترک شہریوں کو اغوا کر لیا ہے اور ترکی نے ان کی بازیابی کے لیے طالبان سے بات چیت شروع کردی۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے ایک سفارت کار نے بتایا ہے کہ ''کابل میں ترک سفارت خانہ افغان حکام کے ساتھ یرغمالیوں کا اتا پتا معلوم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے''۔ ایک مقامی افغان عہدے دار نے بتایا ہے کہ قبائلی سردار بھی یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے مذاکراتی عمل میں شریک ہیں۔تاہم ترک سفارت کار کے بہ قول یرغمالیوں کی بازیابی کی انھیں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

افغان حکام کے مطابق ایک سویلین ہیلی کاپٹر نے پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع مشرقی صوبہ لوگر میں خراب موسم کی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کی تھی۔اس کے بعد طالبان مزاحمت کار اس میں سوار آٹھ ترکوں اور ایک افغان کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

ہیلی کاپٹر ایک ترک کمپنی کے زیراستعمال تھا اور وہ خوست سے کابل جارہا تھا۔صوبہ لوگر کے نائب پولیس سربراہ رئیس خان صادق نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو تلاشی کی کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹر تو مل گیا ہے لیکن اس میں سوار نو افراد نہیں ملے۔ان کو طالبان اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

ہیلی کاپٹر خراسان کارگو ائیر لائنز کمپنی کا ملکیتی تھا اور اس کو اتوار کی رات خراب موسم کی وجہ سے لوگر کے ضلع آزر میں ہنگامی طور پر اتار لیا گیا تھا۔اس میں آٹھ ترک اور ایک روسی اور افغان پائیلٹ سوار تھے۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیوینت گمرکچو نے بتایا ہے کہ یرغمالی ترکوں اور دونوں پائلٹوں کی صحت بہتر ہے۔کابل میں روسی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہیلی کاپٹر کے دونوں غیرملکی پائلٹوں میں سے ایک روسی ہے۔

درایں اثناء طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کسی نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوری طور پر اس امر کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کو مزاحمت کاروں نے ہی یرغمال بنایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں