.

لبنان میں حزب اللہ کے مالی معاون اداروں پر امریکی پابندیاں عاید

امریکا میں دونوں لبنانی کمپنیوں کے اثاثے منجمد، کاروباری لین دین بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی مالی معاونت کرنے والے دو اداروں پر پابندیاں عاید کردی ہیں اور ان کے اپنے ہاں موجود اثاثے منجمد کر لیے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس ڈیوڈ کوہن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''حزب اللہ ایک مکمل دہشت گرد تنظیم ہے۔اسے کئی سال تک ایران خطیر رقوم دیتا رہا ہے لیکن ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھنے کے بعد اس نے مالی وسائل کے حصول کے لیے جرم کی راہ اختیار کر لی ہے''۔

انھوں نے واشنگٹن میں کہا کہ ''آج کی پابندیاں لبنان کے مالیاتی مرکز پر مجموعی طور پر عاید نہیں کی گئی ہیں بلکہ ان ایکٹروں کو ننگا کیا گیا ہے جو اس مرکز کا استحصال کرتے چلے آرہے تھے''۔

امریکی محکمہ خزانہ نے قاسم رمیتی اینڈ کمپنی برائے ایکسچینج اور حلاوی ایکسچینج کمپنی پر پابندیاں عاید کی ہیں۔ان کے تحت اگر ان دونوں لبنانی کمپنیوں کے امریکی سرزمین پر کوئی اثاثے موجود ہیں تو انھیں منجمد کر لیا گیا ہے اورامریکی کاروباری ادارے اور افراد ان کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کرسکیں گے۔

بیان کے مطابق دونوں لبنانی کمپنیاں ایمن جمعہ نارکوٹکس نیٹ ورک کے لیے رقوم ادھر سے ادھر منتقل کرتی رہی ہیں۔حالیہ برسوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ لبنانی تنظیم کی مالی معاونت کرنے والے اداروں پر قدغنیں عاید گئی ہے۔اس سے قبل 2011ء میں محکمہ خزانہ نے لبنانی کینیڈین بنک پر منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پابندیاں عاید کی تھیں۔ان پابندیوں کے بعد اس بنک کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائِی ختم ہوکر رہ گئی تھی۔

محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق جمعہ گروپ قاسم رمیتی اور حلاوی کو اپنی رقوم کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔اس نے دوسرے بنکوں کے ذریعے کروڑوں ڈالرز مالیت کی رقوم امریکا منتقل کی تھیں اور ان رقوم سے پرانی استعمال شدہ کاروں کی خریداری کی جاتی رہی ہے۔ان کاروں کو وہاں سے منگوانے کے بعد مغربی افریقہ کو برآمد کیا جاتا رہا ہے۔

یہ دونوں لبنانی کمپنیاں بینن سے تعلق رکھنے والے منی لانڈروں اور منشیات کے گروپوں سے بھی رابطے میں رہی ہیں اور یہ دونوں حزب اللہ یا اس تنظیم کے عہدے داروں کو رقوم کی منتقلی میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا نے حزب اللہ کو پہلے ہی ایک دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

محکمہ خزانہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ لبنانی کمپنی حلاوی کی غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے امریکا اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی نظام سنگین خطرے سے دوچار ہو گئے تھے۔

انسداد منشیات کے لیے قائم ادارے کے سربراہ ڈیرک مالٹز کا کہنا ہے کہ ''حزب اللہ ایک بڑے ڈرگ پوٹل کی طرح کام کرتی رہی ہے۔ہم اس کی سرگرمیوں کی تحقیقات کرنے جارہے ہیں''۔ایک اور امریکی عہدے دار نے لبنانی تنظیم پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے لبنانی حکومت پر بھی الزام عاید کیا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی شعبے کی کڑی نگرانی کرنے میں ناکام رہی تھی۔ان کے بہ قول لبنانی حکومت اب ان گھروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تو منتقل نہیں کرے گی بلکہ مناسب اقدام کرے گی۔