بشارالاسد کے حامی ہیکروں کی ''اے پی'' کے اکاؤنٹ میں دراندازی

شامی برقی فوج کی واقعات کو مسخ کرنے والے مغربی میڈیا کے مقابلے کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشار الاسد کے حامیوں پر مشتمل برقی فوج نے حال ہی میں امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ (اے پی) ویب سائٹ پر بڑے پیچیدہ انداز میں سائبر حملہ کیا ہے اور انھوًں نے اس کے اکاؤنٹ میں دراندازی کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں بم دھماکوں کی جعلی خبر آن لائن جاری کردی۔

شامی برقی آرمی کے نام سے کام کرنے والے ان ہیکروں نے اے پی کے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کے بعد اس خبر کو بریکنگ کے طور پرٹویٹ کیا تھا۔انھوں نے یہ تحریر ٹویٹ کی:''وائٹ ہاؤس میں دو دھماکے ،براک اوباما زخمی''۔اس جعلی خبر کے منظرعام پر آتے ہی امریکا میں افراتفری پھیل گئی اور اس کے اثرات امریکی اسٹاک ایکسچینج پر اثرات مرتب ہوئے اور مختصر وقت کے لیے گرگئی۔

شامی ہیکروں کی اس برقی فوج نے گذشتہ ہفتے بھی متعدد امریکی نشریاتی اور میڈیا اداروں کے اکاؤنٹس پر حملے کیے تھے،انھوں نے سی بی ایس کے ٹویٹر پیج ،60منٹ ٹی وی شو ، این پی آر ریڈیو اور فیفا کے اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا تھا۔

قبل ازیں مارچ میں بی بی سی کی موسم کی فیڈ پر حملہ کیا گیا تھا اور مغرب کی جانب سے شام کے باغی جنگجوؤں کی حمایت سے متعلق جعلی ٹویٹس جاری کردی گئی تھیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق بی بی سی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے اکاؤنٹس پر بڑے سادہ طریقے سے حملہ کیا گیا تھا۔ان کے ای میل پتوں پر ایک ایسی میل بھیجی گئی جس میں موصول کنندہ نے ایک لنک پر کلک کرنا ہوتا ہے اور اس طرح وہاں سی جوابی ای میل کے ذریعے ہیکروں کو پاس ورڈ تک رسائی حاصل گئی تھی۔

شامی برقی آرمی نے انگریزی اور عربی دونوں زبانوں میں آن لائن موجود اپنے صفحوں پر صدر بشارالاسد کے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ شام میں برسرزمین رونما ہونے والے واقعات کو مسخ کرکے پیش کرنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

انھوں نے اپنے مرکزی صفحے پر جاری کردہ پیغام میں لکھا ہے کہ ''آپ شامی عرب عوام کی حمایت میں عرب اور مغربی میڈیا کی مہم کا مقابلہ کرنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمارا ساتھ دیں کیونکہ یہ میڈیا شام میں رونما ہونے والے واقعات سے متعلق حقائق کو مسخ کرکے پیش کررہا ہے اور فیس بُک کے بہت سے صفحات کے ذریعے جان بوجھ کر شامی عوام میں نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں