شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال؟امریکی صدر کو دباؤ کا سامنا

امریکی تشویش کے باوجود شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی جانب سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات منظرعام پر آنے کے بعد امریکی صدر براک اوباما پر مداخلت کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

امریکی صدر یہ کہہ چکے ہیں کہ شامی رجیم کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کھیل کا پانسا پلٹنے کا موجب بن جائے گا۔البتہ ابھی امریکی انتظامیہ اس نتیجے پر نہیں پہنچی ہے کہ شامی حکومت نے باغی جنگجوؤں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے منگل کو نیوزبریفنگ کے دوران کہا:''ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ ہم کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے کسی بھی الزام کی تحقیقات کریں کیونکہ شامی عوام کے لیے ان ہتھیاروں کے سنگین مضمرات ہوسکتے ہیں اورصدر اوباما یہ بیان دے چکے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکا کے لیے ناقابل قبول ہوگا''۔

براک اوباما نے بیس مارچ کو اسرائیل کے تاریخی دورے کے موقع پر کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بشارالاسد کی ایک سنگین غلطی ہوگی اور یہ غلطی کھیل کا پانسا پلٹنے والی (گیم چینجر) ہوگی۔

امریکا متعدد مرتبہ شام کو خبردار کرچکا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال یا ان کی منتقلی سرخ لکیر کو عبور کرنے والا اقدام ہوگا اور اس کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔صدر اوباما شام کو یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ ''اگر کوئی بھی شامی عہدے دار ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں ملوث ہوا تو اس کا احتساب کیا جائے گا''۔

تاہم امریکا کی ان واضح دھمکیوں اور خدشات کے باوجود ابھی تک شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے بدھ کو مصر کے دورے کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تصدیق ایک سنجیدہ کام ہے اور اس کا فیصلہ عجلت میں نہیں کیا جاسکتا کیونکہ شکوک ایک چیز ہیں اور شواہد دوسری چیز ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''میرے خیال میں ہمیں اس معاملے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنے میں محتاط روی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔دوسرے ممالک کی انٹیلی جنس کی بات ہم نہیں کرتے کیونکہ امریکا اپنی انٹیلی جنس پر انحصار کرتا ہے''۔

امریکا کے علاوہ بعض یورپی ممالک اس خدشے کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں کہ بشارالاسد اقتدار اقتدار پر اپنی گرفت کمزور پڑنے کی صورت میں مخالفین کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر سکتے ہیں یا یہ ہتھیار ان کے قبضے سے نکل کر باغیوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ شام کے پاس 1970ء کے عشرے سے مختلف النوع کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کے پاس سب سے زیادہ کیمیائی ہتھیار بتائے جاتے ہیں لیکن تجزیہ کاروں کے بہ قول ان کو رکھنے کا مقصد واضح نہیں ہے۔

شام نے کیمیاوی ہتھیاروں کے کنونشن 1992ء پر دستخط نہیں کیے تھے۔اس کنونشن کے تحت ان ہتھیاروں کے استعمال ،تیاری اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عاید ہے۔او پی سی ڈبلیو اس معاہدے پر عمل درآمد کی ذمے دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں