پانچ سو یورپی شام میں لڑ رہے ہیں: گیلز شرکاف

یورپ میں انٹیلیجنس ایجنسیوں نے تحقیقات شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ گیلز ڈی شرکاف کا کہنا ہے کہ سیکڑوں یورپی شام میں باغیوں کے ہمراہ صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

گیلز ڈی شرکاف کے اندازے کے مطابق شام میں باغیوں کے ہمراہ لڑنے والے یورپی افراد کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔

انٹیلیجنس ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ ان میں سے کئی افراد القاعدہ میں شامل ہو سکتے ہیں اور یورپ واپس لوٹ کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ شام میں جن یورپی ممالک کے زیادہ باشندے ہیں ان میں یو کے، آئرلینڈ اور فرانس شامل ہیں۔

یورپی یونین کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ’شام جانے سے قبل ان افراد میں سے کوئی بھی انتہا پسند نہیں تھا۔ لیکن جب وہ واپس آئیں گے تو ممکنہ طور پر وہ انتہا پسندی کی جانب راغب ہو چکے ہوں گے اور تربیت یافتہ بھی ہوں گے اور ہمیں یہ لگتا ہے کہ وہ ایک بڑا خطرہ ہوں گے۔‘

برطانیہ اور بیلجیئم میں ایجنسیاں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ یہ افراد بھرتی کیسے کیے جاتے ہیں۔ نیدرلینڈز میں حکام نے دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بلند کردیا ہے کیونکہ انتہا پسند شہری واپس ملک آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں