کرد باغی جنگجوؤں کا مئی میں ترکی سے عراق کی جانب انخلاء

عبداللہ اوجلان اور ترک حکومت کے درمیان طے پائے امن معاہدے پر عمل درآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کرد باغیوں کے فیلڈ کمانڈر مراد کریلان نے اپنے جنگجوؤں کو آیندہ دوہفتے میں ترکی کی سرزمین سے انخلاء اور عراق کے شمالی پہاڑی علاقے میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔

ترکی کے علاقے سے مسلح کردوں کا انخلاء کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جیل میں قید سربراہ عبداللہ اوجلان اور انقرہ حکومت کے درمیان طے پائے امن معاہدے کے تحت ہورہا ہے۔

کریالان نے شمالی عراق کے پہاڑی علاقے قندیل میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''جنگجوؤں کا انخلاء بتدریج اور گروپوں کی شکل میں ہوگا اور اس کو مختصر وقت میں مکمل کیا جائے گا''۔

انھوں نے بتایا کہ آٹھ مئی کو کرد باغیوں کا چھے،چھے کی ٹولیوں کی شکل میں ترکی کے علاقے سے انخلاء کا آغاز ہوگا اور اس عمل کی ترکی کی جانب علاقے میں ایم آئی ٹی انٹیلی جنس ایجنسی اور سرحد پار کرد علاقائی حکومت کرے گی۔انھوں نے دھمکی دی ہے کہ انخلاء کے دوران ترک فوج نے حملہ کیا تو یہ عمل روک دیا جائے گا اور حملے کا جواب دیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ کردوں اور ترک حکومت کے درمیان تین مراحل کے اس عمل میں کرد جنگجوؤں کے انخلاء کے بعد کردوں کو حقوق دینے کے لیے آئینی اصلاحات کی جائیں گی اور سب سے آخری مرحلے میں عبداللہ اوجلان سمیت پی کے کے کے ارکان کو جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔اسی مرحلے میں جنگجوؤں سے ہتھیار بھی واپس لیے جائیں گے۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ ہتھیاروں کی واپسی کیسے ہوگی اور اس کی نگرانی کون کرے گا۔

استنبول کے نزدیک ایک جزیرے میں واقع جیل میں قید کرد لیڈر عبداللہ اوجلان اور ترک حکومت کے درمیان گذشتہ چھے ماہ سے مذاکرات ہورہے تھے۔ ان کے نتیجے میں انھوں نے اکیس مارچ کو کردوں کے نئے سال کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اپنے پیروکاروں پر زوردیا تھا کہ وہ ہتھیار پھینک کر شمالی عراق کی جانب چلے جائیں۔

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہوئے کرد باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات کیے ہیں اور انھیں ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سنہ اسّی کے عشرے سے جاری مسلح تحریک کو ختم کرنے پر آمادہ کیاہے حالانکہ انھیں ملک کی قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ اور قوم پرستوں کی جانب سے کردوں کے ساتھ مذاکرات پر شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ان کی قیادت میں ترک حکومت نے کردوں کو اپنی زبان میں ٹیلی ویژن چینل کی نشریات شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے اور اب سرکاری اسکولوں میں کرد زبان اختیاری مضمون کے طور پر پڑھائی جائے گی۔

واضح رہے کہ کرد باغیوں کی بڑی جماعت کردستان ورکز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجو سنہ 1980ء کے عشرے سے ترکی کی سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار رہے ہیں اور وہ آزادانہ ترکی اور عراق کے درمیان سرحد کے آرپارآتے جاتے رہے ہیں۔

کردباغی ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں اپنے الگ وطن کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے تھے۔اس لڑائی میں پینتالیس ہزارسے زیادہ افراد مارے گئے ہیں جبکہ امریکا، یورپی یونین اور دنیا کے بیشتر ممالک نے ''پی کے کے'' کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا تھا۔اب کردباغی صرف مزید خودمختاری پر راضی ہوگئے ہیں اور الگ وطن کے قیام کے مطالبے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں