.

اسرائیل کا امریکا سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر قبضے کا مطالبہ

امریکا شام کے خلاف فوجی حملے پرغور کرے:نائب اسرائیلی وزیردفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے نائب وزیردفاع زیف ایلکن نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائی پرغور کرے۔

مسٹر زیف ایلکن جمعرات کو اسرائیلی آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''ایرانی شام میں جوکچھ رونما ہورہا ہے،اس کو دیکھ رہے ہیں۔پوری دنیا اور ہم بھی اس کو دیکھ رہے ہیں۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اپنی سرخ لکیر کا کب تعین کریں گے اور کیا آپ اپنے اس موقف پر قائم ہیں''۔

ان کا اشارہ امریکی صدر براک اوباما کی جانب تھا جو یہ کہہ چکے ہیں کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال یا ان کی کہیں اور منتقلی سرخ لکیر کو عبور کرنے والا اقدام ہوگا اور اس کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔صدر اوباما شام کو یہ بھی دھمکی دے چکے ہیں کہ ''اگر کوئی بھی شامی عہدے دار ملک کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال میں ملوث ہوا تو اس کا احتساب کیا جائے گا''۔

اسرائیل بھی شام کو یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس نے اپنے خطرناک ہتھیار حزب اللہ کے حوالے کیے تو اس پر حملہ کردیا جائے گا۔اسرائیلی فوج چند ماہ قبل شام سے حزب اللہ کو ہتھیاروں کی مبینہ منتقلی کی ایک خفیہ اطلاع پر دمشق کے نواح میں ایک فوجی تنصیب پر حملہ کر بھی چکی ہے۔

صہیونی نائب وزیردفاع نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے امریکا کے موقف میں تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ''آج تک تو ہماری راِئے کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے لیکن امریکیوں کی سرخ لکیر عبور کرلی گئی ہے اور یہ ان کے لیے اب ایک امتحان ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ بات واضح ہوچکی ہے اگر امریکا یا عالمی برادری چاہتے ہیں تو وہ فوجی کارروائی کریں اور شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لے لیں۔اس کے بعد کوئی بھی خدشات نہیں رہیں گے''۔

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو پہلی مرتبہ یہ کہا ہے کہ شامی حکومت نے باغی جنگجوؤں کے خلاف محدود پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس نے گذشتہ منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ شامی صدر بشارالاسد کی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران متعدد مرتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

درایں اثناء برطانوی وزیردفاع ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات بہت سنگین ہیں۔تاہم انھوں نے شام کے آس پاس برطانوی فوج کی تعیناتی کے امکان کو مسترد کردیا۔

امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے گذشتہ روز پہلی مرتبہ یہ کہا تھا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کی جانب سے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے اشارے ملے ہیں۔براک اوباما نے بیس مارچ کو اسرائیل کے تاریخی دورے کے موقع پر کہا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بشارالاسد کی ایک سنگین غلطی ہوگی اور یہ غلطی کھیل کا پانسا پلٹنے والی (گیم چینجر) ہوگی۔