.

خودکش حملوں کی سازش پر تین برطانوی مسلمان نوجوانوں کو سزائیں

لندن کی عدالت نے تینوں مجرموں کو 18 سے 23 سال تک جیل کی سزا سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں ایک عدالت میں تین مسلم نوجوانوں کو خودکش بم حملوں کی سازش کے الزام میں قصور وار قرار دے کر قید کی سزائیں سنادی ہیں اور ان کے چوتھے ساتھی کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔

استغاثہ کے مطابق تینوں مجرموں نے عوامی مقامات پر آٹھ بم دھماکے کرنے کی سازش تیار کی تھی اور وہ ایک ٹرک پربلیڈ ویلڈ کرکے اس کو عوامی مقامات پر چھوڑنا اور وہاں تباہی پھیلانا چاہتے تھے۔

لندن کی وول وچ کراؤن عدالت نے تین برطانوی شہریوں عرفان نصیر،عرفان خالد اور عاشق علی کو فروری میں دسمبر 2010ء اور ستمبر 2011ء کے درمیان دہشت گردی کی سازشوں کے بارہ الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔

عدالت کے جج رچرڈ ہنریکوز نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ عرفان نصیر القاعدہ سے متاثر اس گروپ کا لیڈر اور ایک ماہر بم ساز ہے ۔انھوں نے اس مجرم کو عمرقید کی سزا سنائی ہے اور کہا ہے کہ اس کو کم سے کم اٹھارہ سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔

عرفان خالد کو تئیس سال قید کی سنائی گئی ہے اور بارہ سال کی قید کے بعد انھیں ضمانت پر رہا کیا جاسکے گا۔ عدالت نے تیسرے مجرم عاشق علی کو بیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔عرفان نصیر اور عرفان خالد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان دونوں نے پاکستان میں تربیتی کیمپوں میں بم کی تیاری اور دوسرے اسلحہ کو چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ان تینوں مجرموں نے فدائی حملوں کے لیے جانے سے پہلے ویڈیوز بھی ریکارڈ کرا دی تھیں۔عرفان نصیر نے چار اور نوجوانوں کو پاکستان بھیجنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔یہ اور بات ہے کہ ان میں سے تین شدید گرم موسم کی وجہ سے صرف تین روز کے بعد ہی پاکستان سے واپس چلے گئے تھے۔

اس گروپ نے ایک خیراتی ادارے ''مسلم ایڈ'' کے نام پر چندہ جمع کیا تھا اور انھوں نے گھر گھر پھر کر بارہ ہزار پونڈز کی رقم اکٹھی کر لی تھی۔ان کے ایک مالی مدد گار راہین احمد فارن کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کے دوران نوہزار پونڈز سے محروم ہوگئے تھے جس کے بعد اس گروپ نے اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قرض کے حصول کے لیے بھی درخواستیں دی تھیں۔

چھبیس سالہ راہین احمد کو اس سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں سترہ سال قید کی سزا سنائی گئِی ہے۔اس نوجوان نے عدالت کے روبرو اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اس نے ان تینوں کی پاکستان میں تربیت کے لیے جانے اور آنے کے اخراجات برداشت کیے تھے اور اس تمام سفر کا بندوبست کیا تھا۔اس کے اقبال جرم کے بعد اب اس کو کم سے کم چھے سال قید بھگتنا ہوگی۔