.

طرابلس:جدید ہتھیاروں سے مسلح افراد کا وزارت خارجہ کا محاصرہ

قذافی دور کے سنئیر عہدے داروں کو اہم عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مسلح افراد نے وزارت خارجہ کے دفاتر کا محاصرہ کر لیا ہے اور سابق صدر معمرقذافی کے دور کے سنئیر عہدے داروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق اتوار کو کم سے کم بیس پک اپ ٹرکوں میں سوار مسلح افراد نے وزارت خارجہ کا محاصرہ کر لیا۔وہ اے کے 47 کلاشنکوف رائفلوں اور طیارہ شکن توپوں سے مسلح تھے۔انھوں نے وہاں سے ٹریفک کا رخ دوسری شاہراہوں کی جانب موڑ دیا اور وزارت خارجہ کے ملازمین کو بھی دفاتر کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے مسلح بغاوت کے نتیجے میں خاتمے کے بعد سے سکیورٹی کی صورت حال دگرگوں ہے اور جدید ہتھیاروں سے مسلح جتھے شہروں میں دندناتے پھرتے ہیں اور وہ اتنے طاقتور ہیں کہ وہ کسی بھی وقت حکومت کی عمل داری کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

حکومتی کنٹرول سے آزاد مسلح ملیشیاؤں کے ارکان گاہے گاہے اپنی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں جبکہ ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔گذشتہ ہفتے طرابلس میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر کار بم دھماکے کے نتیجے میں دو محافظ زخمی ہوگئے تھے۔

لیبی حکام کے مطابق بم کار میں نصب کیا گیا تھا اوراس کے پھٹنے سے سفارت خانے کی بیرونی دیوار منہدم ہو گئی۔بم دھماکے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اس کے نزدیک کھڑی دو کاریں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔بم دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا اور صرف دو فرانسیسی محافظ زخمی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ طرابلس میں کسی غیرملکی سفارتی مشن پر سابق صدر معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا بم حملہ تھا۔لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں ستمبر2012ء میں اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران نامعلوم افراد نے امریکی قونصل خانے پر حملہ کردیا تھا اور اس حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔