ایران کے جوہری خطرے سے متعلق مبالغہ آرائی کی جارہی ہے:اولمرٹ

ایرانی جوہری پروگرام نے گذشتہ برسوں میں کوئی پیش رفت نہیں کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے لاحق ممکنہ خطرے کے بارے میں مبالغہ آرائی کی جارہی ہے حالانکہ اس نے گذشتہ برسوں کے دوران (جوہری بم کی تیاری کے لیے) کوئی پیش رفت نہیں کی ہے۔

اسرائیلی نیوزویب سائٹ وائی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایہود اولمرٹ نے نیویارک میں ''یروشلیم پوسٹ'' کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ایران نے ابھی سرخ لکیر عبور نہیں کی لیکن اس کے جوہری پروگرام کے خطرے کو مبالغہ آمیز انداز میں بیان کیا گیا ہے''۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ''اسرائیلی کابینہ کو تجزیہ کاروں نے جب یہ بتایا کہ سنہ 2008ء یا زیادہ سے زیادہ 2009ء تک ایران جوہری بم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے گا تو ہم نے اس کو سنجیدگی سے لیا تھا لیکن اب ہم 2013ء کے وسط میں پہنچ چکے ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک جوہری صلاحیت حاصل نہیں کی''۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''ایرانیوں کو امریکا کے اس بیان کو ملحوظ رکھنا چاہیے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ ایران کو جوہری صلاحیت کے حصول سے باز رکھنے کے لیے اپنی تمام طاقت کو بروئے کار لائے گا''۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے ایہود اولمرٹ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ''وہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے جلد خاتمے کی توقع کرتے ہیں اور یہ اب وقت کا معاملہ رہ گیا ہے،ان کا تختہ الٹ دیا جائے گا''۔

یادرہے کہ ایہود اولمرٹ نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اسرائیل نے ایران پر حملے کی تیاریوں میں اربوں ڈالرز ضائع کردیے ہیں لیکن یہ حملہ نہیں کیا گیا۔انھوں نے ایک اسرائیلی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا تھا کہ'' ایک التباسی سکیورٹی مہم جوئی پر گیارہ ارب شیکلز(تین ارب ڈالرز ) ضائع کردیے گئے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور نہ کیاجائے گا''۔

اسرائیل ،امریکا اور ان کے ہم نوا مغربی ممالک ایران پر یہ الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے لیکن ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔اسرائیل ایک جوہری ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور وہ اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے یک طرفہ جنگ کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں