سی آئی اے کی افغان صدر کے دفتر کو کروڑوں ڈالرز ماہانہ کی نوازشات

''گھوسٹ رقم'' کےسوٹ کیس صدر کرزئی کے دفتر کو بھیجے جاتے رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے کے دوران افغان صدر حامد کرزئی کے دفتر کو ہر ماہ کروڑوں ڈالرز سے بھرے سوٹ کیس ،پلاسٹک کے تھیلے اور لفافے دیتی رہی ہے۔

اس بات کا انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں سوموار کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اخبار نے صدر کرزئی کے سابق چیف اسٹاف خلیل رومن کے حوالے سے لکھا ہے کہ ''وہ اس رقم کو ''گھوسٹ'' (بھوت) رقم کہتے تھے کیونکہ یہ خفیہ طریقے سے آتی تھی اور خفیہ طریقے سے ہی کہیں اور چلی جاتی تھی''۔دوسرے لفظوں میں غائب کردی جاتی تھی۔

امریکا کا مرکزی خفیہ ادارہ افغانوں کو یہ ''بھوت رقم'' ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے دیتا رہا تھا لیکن ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ یہ رقم اس کے بحائے افغانستان میں کرپشن کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی۔اس سے جنگی سردار اور بھی مضبوط ہوگئے اور یوں امریکا کی افغانستان سے انخلاء کی حکمت عملی خطرات سے دوچار ہوچکی ہے۔

ایک اور امریکی عہدے دار نے کھلے بندوں اعتراف کیا ہے کہ ''افغانستان میں بدعنوانیوں کا سب سے بڑا ذریعہ خود امریکا تھا''۔جب نیویارک ٹائمز نے اس معاملے میں سی آئی اے سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو اس نے کوئی بیان جاری کرنے سے صاف انکار کردیا۔اخبار کے مطابق سی آئی اے صدر حامد کرزئی کے بعض رشتے داروں کو رقوم دینے کے لیے مشہور رہی ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ''ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک ہر ماہ افغان صدر کے دفتر کو رقوم پہنچائی جاتی رہی ہیں اور اس کے لیے جنگ کے آغاز کے بعد سی آئی اے کے مروجہ طریق کار کو اختیار کیا گیا تھا اور اس ضمن میں امریکی قوانین کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی''۔

تاہم افغان عہدے داروں نے بتایا کہ صدر حامد کرزئی کے بہ ذات خود رقوم وصول کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ ان کی قومی سلامتی کونسل کو یہ کروڑوں ڈالرز تھیلوں میں بھر کر پہنچائے جاتے رہے ہیں۔امریکی اور افغان عہدے داروں کے بہ قول اس رقم کو دینے کا بڑا مقصد حامد کرزئی اور ان کے قریبی حلقے تک رسوخ حاصل کرنا تھا کیونکہ افغان صدر کو نظام حکومت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

لیکن اس رقم کا زیادہ تر حصہ ان جنگی سرداروں اور سیاست دانوں کے ہاتھ لگا جن کے منشیات کی تجارت اور بعض کیسوں میں طالبان سے تعلقات تھے۔رپورٹ کے مطابق امریکی سفارت کار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایجنٹ جن نیٹ ورکس کی بیخ کنی کے لیے کام کررہے تھے،دوسری جانب سی آئی اے انہی کی پشتی بانی اور سرپرستی کررہی تھی۔اس طرح حکومت منظم جرائم میں جھکڑ کررہ گئی ہے۔

سنہ 2010ء میں حامد کرزئی نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ ان کے دفتر نے ایران سے نقدی کے تھیلے وصول کیے تھے لیکن یہ شفاف طریقے سے مہیا کردہ امداد تھی جس سے صدارتی محل کے اخراجات کو پورا کرنے میں مدد ملی۔انھوں نے اس وقت کہا تھا کہ امریکا بھی اسی طرح رقوم دیتا رہا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ایران کی جانب سے افغان صدر کے دفتر کو موصول ہونے والی رقم بھی جنگی سرداروں اور سیاست دانوں ہی کے ہاتھ لگی تھی۔صدر کرزئی کے گیارہ سالہ دورحکومت میں پولیس اور فوج میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوئی دلچسپی نہیں لی گئی حالانکہ جنگ زدہ ملک کے ان دونوں اداروں کو غیرملکی امدادی اداروں اور ممالک کی جانب سے سالانہ اربوں ڈالرز امداد کی شکل میں دیے جاتے رہے ہیں لیکن ان رقوم کے استعمال کا کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ان سے پولیس اور فوج میں نئی نئی بھرتیاں تو کی جاتی رہی ہیں لیکن نئے ریکروٹس تھوڑی ہی عرصے کے بعد بھگوڑے ہو جاتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں