شامی اپوزیشن کا اقتدار خطے کے لئے نقصان دہ ہو گا: ایرانی صدر

مصری اور ایرانی حکام حالیہ چند مہینوں سے شٹل ڈپلومیسی چلا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ زمام اقتدار اگر وہاں اپوزیشن کے ہاتھ آ گئی تو اس کے اثرات خطے میں تادیر محسوس کئے جائیں گے۔ شامی بحران حل کرنے کے سلسلے میں تہران اور قاہرہ کے نقطہ نظر میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہران میں مصری صدر کے معاون عصام الحداد سے ملاقات میں کیا ہے۔

ایرانی صدر کی سرکاری ویب سائٹ کے حوالے سے خبر رساں اداے "ایرنا" نے بتایا: 'احمدی نژاد نے یہ بات زور دیکر کہی کہ شام میں اپوزیشن کی کامیابی پورے علاقے کے لئے ایک خطرہ ہے۔ انہوں نے شامی حکومت کے لئے ایرانی امداد کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا۔'

محمود احمدی نژاد نے تہران میں مصری صدر کے خصوصی مشیر برائے امور خارجہ کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ قضیہ شام کو مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں میں تیزی لانی چاہئے۔

مصری وفد کا دورہ تہران، ایران کے ان بیانات کے فریم ورک میں ہو رہا ہے جن میں یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ احمدی نژاد اور مصری صدر محمد مرسی مسئلہ شام حل کرانے کے سلسلے میں ایک ہی طریقہ کار اختیار کرنے کے حامی ہیں۔

حالیہ چند مہینوں کے دوران مصر اور تہران سے تعلق رکھنے والے اعلی حکومتی عہدیداروں نے ایک دوسرے کے ملکوں کے بہت زیادہ دورے کئے ہیں۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد یہ بات آن دی ریکارڈ بیان کر چکے ہیں کہ ان کا ملک مصری صدر محمد مرسی کے دور اقتدار میں بحال ہونے والے تعلقات کے بعد مصر کی مکمل حمایت کرتا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں