متحدہ عرب امارات کے صدر کے حکم پر103 مصری قیدیوں کی رہائی

شیخ خلیفہ نے مصریوں کے ذمے واجب الادا جرمانے کی رقم بھی ادا کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے صدر الشیخ خليفہ بن زايد آل نہيان نے ملک کی جیلوں میں قید ایک سو سے زیادہ مصری قیدیوں کو جذبۂ خیرسگالی کے تحت معافی دے کر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی رپورٹ کے مطابق صدر شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے ایک سو تین مصری قیدیوں پر عاید کردہ جرمانے کی رقم بھی ادا کردی ہے۔

یو اے ای کی جیلوں سے رہائی پانے والے مصری قیدیوں میں وہ گیارہ افراد شامل نہیں ہیں جنھیں گذشتہ سال اسلام پسندوں کو حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے تربیت دینے کے شُبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

وام کے مطابق یواے ای کے صدر نے مصری قیدیوں کو معافی کے بعد رہائی دلا کر انھیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع فراہم کیا ہے تاکہ ان کے خاندانوں کو درپیش مسائل اور مشکلات ختم ہوسکیں۔تاہم سرکاری ایجنسی نے ان مصری قیدیوں کے بارے میں مزید کچھ نہیں بتایا کہ وہ کن جرائم کے تحت جیلوں میں بند تھے اور انھیں کب گرفتار کیا گیا تھا۔

ابوظہبی میں متعین مصری سفیر تامر منصور نے یواے ای حکومت کے اس اقدام کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے مصر اور یو اے ای کے درمیان گذشتہ کچھ عرصہ سے پائی جانے والی شکر رنجیوں اور سردمہری کا بھی خاتمہ ہوگا جس کے نتیجے میں دونوں برادر ممالک کے تاریخی دوستانہ تعلقات متاثر ہورہے تھے۔

واضح رہے کہ مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے تھے اور یو اے ای موجودہ مصری صدر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا۔

جنوری میں یو اے ای کے عربی روزنامے الخلیج نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ گیارہ مصریوں سے سکیورٹی پراسیکیوٹر سنگین الزامات کے تحت تفتیش کررہے ہیں۔تب مصر کی جزوی حکمراں جماعت اخوان المسلمون نے کہا تھا کہ گرفتارشدگان میں بعض اس کے کارکنان ہیں اور انھیں غلط طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں