.

روس نے شام کی فضائی حدود میں مسافرپروازوں پر پابندی عاید کردی

شام میں دوران پرواز روسی طیارے کی جانب میزائل فائر کیے جانے کے بعد فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے فضائی ٹرانسپورٹ ادارے نے شام کی فضائی حدود میں تمام روسی طیاروں کی پروازوں پر تاحکم ثانی پابندی عاید کردی ہے۔

روس ایوی ایشن فیڈرل ایجنسی نے یہ فیصلہ خانہ جنگی کا شکار ملک کی فضائی حدود میں دوران پرواز ایک روسی طیارے کے عملے کی جانب سے خطرے کی نشاندہی کے بعد کیا گیا ہے۔

ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''فیڈرل فضائی ٹرانسپورٹ ایجنسی اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ اس صورت حال میں روسی فضائی کمپنیوں کی خدمات استعمال کرنے والے لوگوں کے تحفظ پر تجارتی مفادات کو فوقیت نہیں دی جاسکتی''۔

روس کے ایک چارٹر طیارے کے عملے نے دوران پرواز شام کی فضائی حدود میں اپنی جانب فائر کیے جانے کی اطلاع دی تھی جس کے بعد روسی ادارے نے پروازوں پر پابندی عاید کردی ہے۔روسی حکام کے مطابق طیارے میں ایک سو انسٹھ مسافر سوار تھے اوروہ مصر کے ساحلی مقام الشرم الشیخ سے روسی شہر کازان جا رہا تھا۔

انٹرفیکس نیوزایجنسی نے ماسکو میں ایک ذریعے کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ نامعلوم افراد نے طیارے کی جانب زمین سے فضا میں مار کرنے والے دو میزائل فائر کیے تھے۔تاہم اس سے طیارے کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا اور وہ بروقت اپنی منزل مقصود کازان پہنچ گیا تھا۔

روسی وزارت خارجہ نے شامی حکومت سے اس واقعے کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کے لیے کہا ہے۔روس ایوی ایشن کی جانب سے فروری میں انتباہ کیے جانے کے بعد سے متعدد ائیر لائنز نے پہلے ہی شام کی فضائی حدود میں اپنی پروازوں پر پابندی عاید کررکھی ہے۔تاہم بعض فضائی کمپنیوں نے اب بھی اپنی پروازیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔