.

غزہ پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید

مغربی کنارے میں فلسطینی نے یہودی آبادکار کو ہلاک کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی نوجوان شہید اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

حماس کے تحت وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیلی طیارے نے منگل کو غزہ شہر کے مغرب میں واقع شطی مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔ترجمان نے ایک فلسطینی نوجوان کی شہادت اور دوسرے کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ فوج نے راکٹ بنانے کے ماہر ایک جہادی پر حملہ کیا ہے۔اس ترجمان کے بہ قول اس شخص نے جزیرہ نما سیناء سے اسرائِیلی بندرگاہ ایلات کی جانب سترہ اپریل کو راکٹ حملے میں کردار ادا کیا تھا۔تاہم اس حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔

غزہ کے مکینوں نے شہید فلسطینی نوجوان کا نام ہیثم المشعل بتایا ہے اور اس کی عمر انتیس سال تھی۔اس کو غزہ کے شمال میں ایک موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کی نیشنل سکیورٹی فورس کا رکن تھا۔اس کے رشتہ داروں کے بہ قول اس کا ایک جہادی سلفی تنظیم سے بھی تعلق رکھتا تھا۔

ادھر دریائے اردن کے مغربی کنارے میں بھی آج تشدد کا ایک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک فلسطینی نے ایک یہودی آباد کار کو چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا۔اسرائیلی فوجیوں نے اس فلسطینی کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے نومبر میں مصر کی ثالثی میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ غزہ شہر پر فضائی حملہ کیا ہے۔گذشتہ چند ہفتوں کے دوران غزہ سے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں ہے اور سوموار کو بھی ایک مارٹر گولہ فائر کیا گیا تھا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ان راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج غزہ کے پٹی کے دوسرے علاقوں میں فضائی حملے کرتی رہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ روز ایک بیان میں دھمکی دی تھی کہ راکٹ حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام محاذوں پر ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔