.

افغانستان:طالبان کے حملے میں صوبائی امن کونسل کا سربراہ ہلاک

ہلمند میں تین برطانوی فوجیوں کی بم دھماکے میں ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے بدھ کے روز جنوبی صوبہ ہلمند میں صوبائی امن کونسل کے سربراہ کو ہلاک کر دیا ہےجبکہ برطانیہ نے اسی صوبے میں اپنی تین فوجیوں کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر ژاوک نے بتایا ہے کہ طالبان مزاحمت کاروں نے شورش زدہ ضلع گریشک میں صوبائی کونسل کے سربراہ ایم عالم شاہ ولی کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔انھوں نے قافلے پر پہلے بم پھینکا اور پھر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایم عالم شاہ ولی اور ان کے دو محافظ مارے گئے ہیں۔حملے میں تین پولیس اہلکار اور ایک افغان فوجی زخمی ہو گیا۔

ہلمند میں گذشتہ روز سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں تین برطانوی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔وہ صوبے کے ضلع نہر سراج میں معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران ان کی گاڑی بم دھماکے میں تباہ ہوگئی۔

لندن میں برطانوی فوج کے ترجمان میجر رچرڈ مورگن نے ایک بیان میں ان تینوں فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور ان کی موت کو ہلمند میں تعینات برطانوی ٹاسک فورس کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔نیٹو کے تحت ایساف فورس نے منگل کو ان کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی لیکن ان کی قومیت نہیں بتائی تھی۔

برطانوی وزارت دفاع ہلمند میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی کے بعد سے سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے کے دعوے کرتی رہی ہے لیکن اس کے باوجود طالبان مزاحمت کار بلا خوف وخطر برطانوی فوجیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور اب آیندہ سال غیرملکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ صوبے میں طالبان کے دوبارہ مکمل کنٹرول قائم ہوجائے گا۔

طالبان مزاحمت کاروں نے اتوار کو افغانستان میں غیرملکی فوجوں اور افغان سکیورٹی فورسز پر اپنے موسم بہار کے حملوں کا آغاز کیا تھا اور انھوں نے ریموٹ کنٹرول بم سے تین پولیس افسروں کو ہلاک کرنے کی ذمے داری قبول کی تھی۔2014ء میں امریکا کی قیادت میں نیٹو فوجوں کی مکمل واپسی سے قبل طالبان مزاحمت کاروں کی اس موسم بہار میں کارروائیوں کو جنگ زدہ ملک کی سکیورٹی کے حوالے سے اہم خیال کیا جارہا ہے۔